فتَی اللّٰہ الذی أشار اللّٰہ فی کتابہ إلٰی حیاتہ، وفرض علینا أن نؤمن بأنہ حیٌّ فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین۔ و أما نزول عیسٰی من السّماء فقد أثبتنا بطلانہ فی کتابنا الحمامۃ، وخلاصتہ أنّا لا نجد فی القرآن شیئا فی ہذا الباب من غیر خبر وفاتہ الذی نجدہا فی مقامات کثیرۃ من الفرقان الحمید۔ نعَمْ جاء لفظ النزول فی بعض الأحادیث، ولکنہ لفظ قد کثر استعمالہ فی لسان العرب علی نزول المسافرین إذا نزلوا من بلدۃ ببلدۃ أو من مُلک بملک متغربین۔ والنزیل ہو المسافر کما لا یخفی علی العالمین۔ و أمّا لفظ التوفی الذی یوجد فی القرآن فی حق المسیح وغیرہ من بنی آدم فلا سبیل فیہ إلی تآویل أخری بغیر الإماتۃ، وأخذنا معناہ من النبی ومن أجلّ الصحابۃ لاؔ مِن عند أنفسنا۔ وأنت تعلم مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مُردوں میں سے نہیں۔ مگر یہ بات کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان سے نازل ہوں گے سو ہم نے اس خیال کا باطل ہونا اپنی کتاب حمامۃ البشریٰ میں بخوبی ثابت کر دیا ہے اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ہم قرآن میں بغیر وفات حضرت عیسیٰ ؑ کے اور کچھ ذکر نہیں پاتے اور وفات کا ذکر نہ ایک جگہ بلکہ کئی مقامات میں پاتے ہیں۔ ہاں بعض احادیث میں نزول کا لفظ آیا ہے لیکن وہ لفظ ایسا ہے کہ زبان عرب میں اکثر استعمال اس کے مسافروں کے حق میں ہے جب وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں وارد ہوں اور یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کر کے آویں اور نزیل تو مسافر کو ہی کہتے ہیں جیسا کہ جاننے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ مگر توفّی کا لفظ جو قرآن میں حضرت مسیح اور دوسروں کے حق میں پایا جاتا ہے سو اس میں بغیر معنے مارنے کے اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور یہ معنے مارنے کے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے بزرگ صحابہ سے لئے ہیں یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تُو جانتا ہے کہ