و ذُرِئَ۔ ہذا بیان بعض العلماء ، وأما صاحب ’’الإنسان الکامل‘‘ عبدُالکریم الذی ہو من المتصوفین، فبلّغ الأمرَ إلی النہایۃ، وقال
إن التثلیث بمعنی حق ولا حرج فیہ، وإن عیسٰی کذا وکذا، بل أشار إلی أنہ لیس بمخلوق۔ ومنہم من اعتدی فی کذبہ وقال بسم اللّٰہ الآب والابن وروح القدس۔ کذلک أیّدوا الفِرْیۃ ونصروہا۔ وکان الکذب فی أول
الأمر قلیلًا، ثمؔ من جاء بعد کاذبٍ ألحقَ بکذبہ کذبا آخر، حتی ارتفعت عمارۃ الکذب، وجُعل ابنُ عجوزۃٍ ابنَ اللّٰہ، وبعد ذلک جُعل إلٰہَ العالمین، ألا لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ إنْ عیسی إلّا نبی اللّٰہ کأنبیاء آخرین،
وإنْ ہو إلا خادم شریعۃ النبی المعصوم الذی حرّم اللّٰہ علیہ المراضع حتی أقبلَ علی
ثدی أُمّہ، وکلّمہ ربُّہ علی طور سینین وجعلہ من المحبوبین۔ ہذا ہو موسٰی
یہ تو بعض علماء کا قول ہے مگر صاحب
کتاب انسان کامل عبد الکریم نے
جو متصوفین میں سے ہے اس بارے میں حد ہی کر دی اور کہا کہ تثلیث
ایک معنی کے رو سے حق ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اور عیسیٰ ایسا ہے اور ایسا ہے
بلکہ اس طرف اشارہ کر دیا کہ
وہ خداتعالیٰ کی مخلوق میں سے نہیں ہے اور بعض آدمی جھوٹ بولنے میں بہت بڑھ گئے اور یہ لکھا کہ بسم اللہ الاب و الابن و
روح القدس اسی طرح انہوں نے
جھوٹ کی تائید کی اور جھوٹ کو مدد دی اور جھوٹ پہلے پہلے تو
تھوڑا تھا پھر جو شخص ایک جھوٹے کے بعد آیا اُس نے کچھ اپنی طرف سے بھی پہلے جھوٹ پر زیادہ کیا یہاں تک کہ جھوٹ
کی
عمارت بہت اونچی ہو گئی اور ایک بڑھیا عورت کا بچہ خدا کا بیٹا بنایا گیا اور پھر خدا کر کے مانا گیا خبردار رہو کہ
جھوٹوں پر خدا کی *** ہے عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی
خدا کا ہے اور وہ
اُس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں یہاں تک کہ
اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اُس سے
ہمکلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا یہ وہی موسیٰ ؑ
(الفائدۃ) کلّم اللّٰہ موسٰی علی جبل وکلم الشیطٰن عیسٰی علٰی جبل فانظر الفرق بینہما ان کنت من الناظرین ۔ منہ
خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہمکلام
ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہمکلام ہوا سو اس دونوں قسم کے
مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔