تخرجنا من أوطاننا؟ أو یجعل الناس نصاریٰ ظلمًا وجبرًا؟ کلا بل إنہا بریۃٌ من کل ہذہ الإلزامات، بل ہی لنا من المُعینین۔ ثم انظرْ إلی
أحکامٍ علّمَنا القرآن للذین أحسنوا إلینا، وراعوا شؤوننا وکفلوا شجوننا، ومانُونا وآوَونا، بعدما کنا تاۂین۔ أیمنعنا ربّنا من أن نحسن إلی المحسنین ونشکر المنعمین؟ کلا بل القرآن یأمر بالقسط والعدل والإحسان
واللّٰہ یحب المقسطین۔ وقد قال فی القرآن ، وما قال ولتکن منکم أُمّۃٌ یقتلون الکفّار ویُدخلونہم جبرًا فی دینہم۔ وقال جَادِلْہم (أی جادِل النصاری) بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ، وما قال اقتلوہم بالسیوف
والصوارم إلا بعد صدّہم عن سبیل اللّٰہ ومکرہم لإطفاء نور الإسلام وقیامہم فی مقام المعادین، فانظُرْ ما قال ربّنا ربّ العالمین۔
ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالتی ہے یا لوگوں کو جبر اور ظم سے عیسائی بناتی
ہے ہرگز نہیں بلکہ وہ ہمارے لئے
مددگاروں میں سے ہے پھر قرآن کے ان حکموں پر نظر ڈالو جن میں خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ان
کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیئے جو ہم پر احسان
کریں اور ہمارے کاموں کی رعایت رکھیں اور ہماری حاجات کے
متکفل ہو جائیں اور ہمارے بوجھوں کو اٹھا لیں اور ہمیں پریشان گردی کے بعد اپنی پناہ میں لے آویں کیا خدا تعالیٰ ہم کو
اس سے
منع کرتا ہے کہ ہم نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کریں اور دلی نعمتوں کا شکر ادا کریں ہرگز نہیں بلکہ وہ تو انصاف اور عدل اور احسان کرنے کے لئے فرماتا ہے اور وہ انصاف کرنے والوں کو
دوست رکھتا ہے۔ اور قرآن میں اس نے یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور امر معروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا کہ تم میں سے لوگ ہمیشہ
ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافرون کو قتل کریں اور ان کو اپنے دین میں جبراً داخل کرتے رہیں اور اس نے یہ تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے طور پر بحث کرو اور یہ نہیں کہا کہ ان
کو تلواروں سے قتل کر ڈالو۔ مگر اس حالت میں جبکہ وہ دین سے روکیں اور اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور دشمنوں
کے مقام میں کھڑے ہو جائیں پس دیکھ تو سہی ہمارے
پروردگار نے جو تمام عالموں کا رب ہے کیسا کچھ فرمایا ہے۔