حولنا، وإن لہا علینا إحسانا عظیما فلن ننسی إحسانہا، وإنا من الشاکرین۔
وأمّا ما ذکر ہذا الواشی قصۃَ جہاد الإسلام، وتظنّی أن
القرآن یحثّ علی الجہاد مطلقًا من غیر شرط من الشرائط ، فأیُّ زور و افتراء أکبرُ من ذلک إن کان أحد من المتدبرین؟ فلیعلم أن القرآن لا یأمر بحرب أحد إلا بالذین یمنعون عباد اللّٰہ أن یؤمنوا بہ ویدخلوا فی
دینہ ویطیعوہ فی جمیع أحکامہ ویعبدوہ کما أُمروا۔ والذین یقاتلون بغیر الحق ویُخرجون المؤمنین من دیارہم وأوطانہم ویُدخلون الخَلق فی دینہم جبرًا وقہرًا، ویریدون أن یطفؤا نور الإسلام ویصدّون الناس من أن
یُسلِموا، أولئک الذین غضب اللّٰہ علیہم ووجب علی المؤمنین أن یحاربوہم إن لم ینتہوا۔ فانظر ہذہ الدولۃَ۔ أیُّ فساد توجدؔ فیہا من ہذہ المفاسد؟ أتمنعنا من صلواتنا وصومنا وحجّنا وإشاعۃ مذہبنا؟ أو تقاتلنا فی
دیننا أو
ہلاک کیا جو ہمارے گرد تھے اور اس کا ہم پر بڑا احسان ہے سو ہم اس احسان کو بھول نہیں سکتے اور ہم شکر گزار ہیں۔
اور جو اس نکتہ چین نے جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا
ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے
جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا نہیں اگر
کوئی سوچنے والا ہو۔ سو جاننا چاہیئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی
کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان
لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں
اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے
دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں
یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو ان سے لڑیں اگر
وہ باز نہ آویں
مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ کون فساد ان فسادوں میں سے ان میں پایا جاتا ہے کیا وہ ہمیں ہماری
نماز اور روزہ اور حج اور اشاعت مذہب سے ہم کو منع کرتی ہے یا دین کے
بارے میں ہم سے لڑتی ہے یا