وقد بیّنّا لک أن الحرب لیس من أصل مقاصد القرآن ولا من جذر تعلیمہ، وإنما ہو جوّز عند اشتداد الحاجۃ وبلوغ ظلم الظالمین إلی انتہاۂ
واشتعال جور الجائرین۔ و ؔ لکُمْ أسوۃ حسنۃ فی غزوات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، کیف صبر علی ظلم الکفار إلی مدۃ یبلغ فیہ صبیّ إلٰی سن بلوغہ، فصبر۔ وکان الکفار یؤذونہ فی اللیل والنہار۔ ینہبون
أموال المؤمنین کالأشرار، ویقتلون رجالہم ونساء ہم بتعذیبات تتحدر بتصورہا دموع العیون وتقشعر قلوب الأخیار، وکذلک بلغ الإیذاء إلی انتہاۂ حتی ہمّوا بقتل نبی اللّٰہ، فأمرہ ربّہ أن یترک وطنہ ویہرب إلی
المدینۃ مہاجرا من مکۃ، فخرج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من وطنہ بإخراج قومہ۔ ومع ذلک ما کان الکفار منتہین، بل لم یزل الفتن منہم تستعِرُّ، ومحجّۃ الدعوۃ تَعِرُّ، حتی جلبوا علٰی رسول اللّٰہ صلی
اللّٰہ
اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد قران میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے
وقت تجویز کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا تک
پہنچ
جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
بہتر ہے دیکھو کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ
اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دکھ دیتے اور رات دن ستاتے اور
شریروں کی طرح ان کے مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور
عورتوں کو قتل کرتے اور ایسے بڑے بڑے
عذابوں سے مارتے کہ ان کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں اور نیک آدمیوں کے دل کانپتے ہیں اور
اسی طرح دکھ انتہا کو پہنچ گیا
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سو اس کے رب نے اس کو حکم دیا تاوہ مدینہ بھاگ
جائے سو آنحضرت
اپنے وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے
بھڑکاتے اور دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں
تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر