ومن طلب فوجد ولو بعد حین۔
وأما ما خوّف الواشی المزورُ الحکومۃَ البریطانیۃ عن بغاوتنا فما ہذا إلا وِشاء وشَتْمٌ، ولیس علٰی سِرِّنا
ختمٌ، والدولۃ أعرَفُ من ہذا الواشی وہی ابن الأیام، وبیتنا عندہا فی ہذہ النواح عَلَمُ الأعلام، وتعلم رعایاہا طبقًا عن طبق، فلا یخفی علیہا غرضُ ہذا الواشی ولیس بمستور علیہا سرُّ فزعہ ومقصد جزعہ، بل ہی
تعلَم حق العلم أمثالَہ الذین یریدون مخاؔ تلۃ الحکّام مِن سَورۃ تعصُّبہم وفورۃ عداوتہم وفساد فطراتہم، وما فی وعاۂم إلا سمّ الفساد، وما فی قلبہم إلا مقت الارتداد۔ أعرضوا عن المہیمن وجلالہ، وعثوا فی
الأرض مفسدین۔ وقد کتبْنا غیر مرۃ أنا نحن من نصحاء الدولۃ ودواعی خیرہا، وکیف وقد جبر اللّٰہ مصائبنا بہا، وأزال بہا مرارۃ حیاتنا۔ وکنا فی أرضٍ مَحْیاۃٍ، فأُہلکَ بہا کلُّ حیّۃ کانت
ڈھونڈے گا پائے گا
اگرچہ کچھ دیر کے بعد پاوے۔
اور اس نکتہ چین نے جو دولت برطانیہ کو میری بغاوت سے ڈرایا ہے سو یہ تو ایک صرف سخن چینی اور گالی ہے اس سے زیادہ نہیں اور ہمارے بھید پر تو کوئی مہر
نہیں ہے اور گورنمنٹ اس نکتہ چین کی نسبت زیادہ واقف اور زمانہ دیدہ ہے اور ہمارا خاندان اس کے نزدیک اس نواح میں اول درجہ کا مشہور ہے اور اپنی رعایا کو وہ درجہ بدرجہ پہچانتی ہے سو
اس پر نکتہ چین کی غرض پوشیدہ نہیں اور اس پر نکتہ چین کے اس جزع فزع کا اصل مقصد چھپا نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کو خوب جانتی ہے کہ جو حکام کو اپنے جوش تعصب اور عداوت اور فساد
فطرت سے دھوکا دینا چاہتے ہیں اور ان کے برتن میں بجز فساد کے زہر کے اور کچھ نہیں اور ان کے دل میں بجز مرتد ہونے کے دشمنی کی اور کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ اور اس کے جلال سے ان
لوگوں نے منہ پھیر لیا اور زمین میں فساد پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے خیر خواہوں میں سے ہیں اور کیونکر نہ ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس کے سبب سے ہماری
مصیبتوں کو دور کیا اور نیز اس سے ہماری زندگی کی تلخی کو دور فرمایا اور ہم سانپوں والی زمین پر بستے تھے تو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان سانپوں کو