یُدخل اللّٰہ نور توحیدہ فی قلب ہذہ الملکۃ الزہراء وقلوب أبناۂا العقلاء ، ولیس علی اللّٰہ بعزیز، بل قدرتہ صالحۃ لہذؔ ہ النور، وہو
علی کل شیء قدیر، وإنہ یجذب إلیہ قلوب الطالبین۔ وکذٰلک نرٰی أن أعاظم أرکان الدّولۃ یمیلون إلی التوحید یومًا فیومًا، وقد نفرت قلوبہم من مثل ہذہ العقائد الباطلۃ، ولا یلیق بشأنہم أن یعبدوا بشرًا مثلہم فی
الضعف واللوازم الإنسانیۃ، وکیف وقد أعطاہم اللّٰہ أنواع العلوم وحظًّا وافرًا من الفہم والعقل، ولا نجد فی محققی ہذا القوم رجلا یرضی بہذہ الأباطیل إلا نادرا کالشعرۃ البیضاء فی اللَّمّۃ السوداء ، وإنّی أعلم
أنہم بَیْضُ الإسلام، وستخرج منہم أفرُخُ ہذہ الملّۃ، وستُصرَف وجوہہم إلی دین اللّٰہ۔ إنہم قوم یفتّشون کل أمر، ولا یغضّون الطرف من الحق الذی حصحص، ولا یَتَّءِبون من قبول الحق ویطلبون ولا یلغبون
ملکہ نورانی وجہ کے دل اور اس کے شہزادوں کے دلوں میں نور توحید ڈال دے اور خداتعالیٰ پر یہ
مشکل نہیں بلکہ اس کی قدرت ایسے ہی کام کرتی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر
ہے اور وہ اپنی
طرف طالبوں کے دل کھینچ لیتا ہے اور اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے رکن اس
گورنمنٹ کے دن بدن توحید کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں اور ان کے دل ان عقائد باطلہ سے نفرت
کر
گئے ہیں اور ان کی شان کے لائق بھی نہیں کہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کریں جو انسانوں کی طرح صفات میں
اورتمام لوازم انسانیت میں ان کا شریک ہے اور ایسا شرک ان سے کیونکر ہو سکے
اور خدا نے ان کو کئی قسم کے علم عطا کئے ہیں
اور فہم اور عقل عنایت کی ہے اور ہم اس قوم کے محققوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں پاتے جو ان
واہیات باتوں پر راضی ہو مگر شاذ و نادر
جو اس ایک بال کی طرح ہے جو سیاہ بالوں میں ہو اور میں جانتا ہوں کہ
یہ لوگ اسلام کے انڈے ہیں اور عنقریب ان میں سے اس ملت کے بچے پیدا ہوں گے اور ان کے منہ
الٰہی دین کی طرف
پھیرے جائیں گے کیونکہ یہ ایک ایسی قوم ہے کہ جو ہریک بات کی تفتیش کرتی ہے اور اس حق سے آنکھ
بند نہیں کرتی جو کھل گیا ہو اور حق کے قبول کرنے سے شرم نہیں کرتی اور ڈھونڈتی ہے
اور تھکتی نہیں اور جو