فکیف یمکن أن تؤمن بہذہ الخرافات، بل تحسبہا کسَمْرٍ لا أصل لہ أو کطَیفٍ مرکَّب من الخزعبلات، ومع ذلک لا میل لہا أصلاً إلی الدینیات۔ وفتَن قلبہا حبُّ الدنیا وشوق الحکومات، فہی غریقۃ فی دنیاہا من الرأس إلی القدم فی کل الخطوات، ولا تمیل إلی دین، وإذا مالت فإلی الإسلام، فلا تقبل إلا ہذا الدّین وملّۃ خاتم النبیّین۔ وإنّا نری أنہا ترمُقہ بعین المحبّ ولیست علی الضلالۃ کالمکبّ، بل تزجی أیامہا فی التدبر، ولا تعرض کالمُتکبّر، وإنی أجد آثار رشدہا، وأظن أنہا ستمیل إلیہ ولا یترکہا اللّٰہ فی الغافلین الضالین۔ وقد دخل من علماۂم فی دیننا طائفۃ من شبان رُوقۃٍ وشارۃ مرموقۃ، وآخرون منہم یکتمون إیمانہم إلٰی حین۔ وإنا نرٰی أن ملکتنا المکرمۃ مرجوّۃ الاہتداء ، وقد أعطیتْ لقلبہا حُبّ الإسلام وشوق ہذا الضیاء ، وعسی أن پس کیونکر ممکن ہے کہ یہ گورنمنٹ ایسی باتوں پر ایمان لاوے بلکہ یہ تو اس کو ایک بے اصل کہانی سمجھتی ہے اور ایک خواب پریشان کی طرح اباطیل کا مجموعہ خیال کرتی ہے اور علاوہ اس کے اس گورنمنٹ کو دینیات کی طرف کچھ توجہ نہیں اور دنیا کی محبت اور حکومتوں نے اس کے دل کو اپنی طرف کھینچا ہوا ہے سو وہ سر سے قدم تک دنیا میں غرق ہے اور کسی دین کی طرف اس کو میل نہیں اور اگر کسی وقت میل ہوگی تو اسلام کی طرف اور صرف دین اسلام کو قبول کرے گی اور ملت خاتم النبیین میں داخل ہوگی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کو بنظر محبت دیکھتی ہے اور گمراہی پر نگونسار نہیں بلکہ تدبر میں اپنے دنوں کو بسر کرتی ہے اور متکبر کی طرح کنارہ کش نہیں اور میں اس کے رشد کے آثار پاتا ہوں اور گمان کرتا ہوں کہ وہ جلد اسلام کی طرف میل کرے گی اور خدا اس کو گمراہوں اور غافلوں میں نہیں چھوڑے گا۔ اور ایک طائفہ ان کے علماء کا ہمارے دین میں داخل ہوگیا جو جوانان خوشرو اور پسندیدہ صورت ہیں اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو ایمان ایک وقت تک پوشیدہ رکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ملکہ مکرمہ ہدایت پانے کے لئے امید کی جگہ ہے اور اس کے دل کو حب اسلام اور شوق اس روشنی کا دیا گیا ہے اور عنقریب ہے کہ خداتعالیٰ اس