وإنّا قرأنا علیک معارف اللّٰہ، فہل لک أن ترغب الیہا وتکون من الصالحین؟ منہا قولہ أن قسّیسی ہذا الزمان لیسوا بدجّالین۔ ثم بعد ذلک حثَّ الحکومۃ البرطانیۃ علی إیذائی، ویشیر إلی أن ہذا الرجل یعتقد أن ہذہ الدولۃ ہی الدجال المعہود وأنہ من الباغین۔ أمّا الجواب فاعلم أننا لا نسمی الدولۃ البریطانیۃ دجالا معہودا، بل نعلم ونستیقن أن ہذہ الدولۃ محققۃٌ عاقلۃ مفکرۃ فی حقائق الموجودات، وقد رزقہا اللّٰہ منؔ العلم والحکمۃ والفلسفۃ وأنواع الصناعات، وحفّتْ بہا لمعاتُ المعقولات، فہی تعرف الترہات، وتفضّ خَتْمَ سرِّ المزوّرات، ولیست من الذین یرضون بالہذیانات۔ ذکرُ بعض اعتراضات الواشی وردہا نکتہ چین مذکور کے بعض اعتراضات کا ذکر اوراُن کا رد اور ہم نے تجھ کو معارف الٰہی پڑھ سنائے پس کیا تجھے کچھ خواہش ہے کہ ان میں تورغبت کرے اور نیکوں میں سے ہو جائے۔ ان میں سے ایک یہ اس کا قول ہے کہ اس زمانہ کے پادری دجال نہیں پھر اس کے بعد اس نے گورنمنٹ برطانیہ کو میرے ایذا کے لئے ترغیب دی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ یہی گورنمنٹ دجال معہود ہے اور یہ شخص باغی ہے۔ سو اس کے جواب میں جاننا چاہیئے کہ ہم اس گورنمنٹ کا نام دجال نہیں رکھتے بلکہ ہم یقین رکھتے اور جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ عقلمند اور محقق اور حقائق موجودات میں فکر کرنے والی ہے اور خدا نے اس کو علم اور حکمت اور فلسفہ اور کئی قسم کی صناعتوں سے حصہ دیا ہے اور علم معقول کی چمکیں اس کے محیط ہوگئی ہیں پس اسی وجہ سے یہ گورنمنٹ جھوٹی باتوں کو خوب پہچانتی اور جھوٹ کے سر بستہ راز کی مہر توڑتی ہے اور ان میں سے نہیں جو بے ہودہ باتوں پر راضی ہو جائیں