الکشفیۃ، وقد أکل معی علی مائدۃ واحدۃ، ورأیتہ مرّۃ واستفسرتُہ مما وقع قومہ فیہ، فاستوی علیہ الدہش، وذکَر عظمۃ اللّٰہ وطفِق
یسبّح ویقدّس، وأشار إلی الأرض وقال إنّما أنا ترابیٌّ وبریءٌ مما یقولون، فرأیتہ کالمنکسرین المتواضعین۔ ورأیتہ مرۃ أخرٰی قائما علی عتبۃ بابی وفی یدہ قرطاس کصحیفۃٍ، فأُلقِیَ فی قلبی أن فیہا أسماء عباد
یحبّون اللّٰہ ویحبّہم وبیان مرؔ ا تب قربہم عند اللّٰہ، فقرأ تُہا فإذا فی آخرہا مکتوب من اللّٰہ تعالٰی فی مرتبتی عند ربی ہو مِنّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی، فکاد أن یُعرَف بین الناس۔ ہذا ما رأیتُ، ویکفیک إن کنت من
الطالبین۔ لا یقال إنہا رؤیا أو کشف ومن المحتمل أن یتمثل الشیطان فی مثل ہذہ الواقعات، فإن الشیطان لا یتمثل بصورۃ الأنبیاء ، فتقبَّلْ ہذا السّرّ الجلیل، ولا تقبل ما قیل۔
خوا ان میں میرے ساتھ اس نے کھایا
اور ایک دفعہ میں نے اس کو دیکھا اور اس فتنہ کے بارے میں پوچھا جس میں اس کی قوم مبتلا ہو گئی ہے پس اس پر دہشت غالب ہوگئی اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا اور
اس کی تسبیح
اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں تو صرف خاکی ہوں اور ان تہمتوں سے بری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں پس میں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا
آدمی پایا اور ایک مرتبہ میں نے اس کو دیکھا کہ میرے دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور ایک کاغذ خط کی طرح اس کے ہاتھ میں ہے سو میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس خط میں ان لوگوں کے نام درج ہیں
کہ جو خدا تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے اور اس میں ان کے مراتب قرب کا بیان ہے جو عند اللہ ان کو حاصل ہیں پس میں نے اس خط کو پڑھا سو کیا دیکھتا ہوں کہ
اس کے آخر میں میرے مرتبہ کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور عنقریب وہ لوگوں میں مشہور کیا جائے گا یہ ہے جو میں
نے دیکھا اور یہ تجھے کفایت کرتا ہے اگر تو حق کا طالب ہے۔ یہ کہنا بیجا ہے کہ یہ تو ایک خواب یا کشف ہے اور ممکن ہے کہ ایسے واقعات میں شیطان متمثل ہوکر ظاہر ہو کیونکہ شیطان انبیاء کی
صورت پر متمثل نہیں ہوتا پس اس بزرگ بھید کو قبول کر اور جو کچھ اس کے مخالف کہا گیا اس کو مت قبول کر