فہمہا فی أمور الدنیا تعبد عبدًا عاجزًا وتحسبہ رب العالمین سبحانہ لا شریک لہ، وإنؔ شاء لخلَق ألوفا مثل عیسٰی أو أکبر وأفضل منہ ویخلُق، ومن یعلم أسرارہ؟ فتوبوا واتقوا أن تجعلوا لہ شرکاء وأْتوہ مسلمین۔ وکیف نظن أن عیسٰی ہو اللّٰہ وما قرأنا فلسفۃ یثبت منہا أن رجلا کان یأکل ویشرب ویبول ویتغوّط وینام ویمرض، ولا یعلم الغیب، ولا یقدر علی دفع الأعداء ، ودعا لنفسہ عند مصیبۃ مبتہلًا متضرّعا من أول اللیل إلٰی آخرہ فما أجیبت دعوتہ، وما شاء اللّٰہ أن یوافق إرادتہ بإرادتہ، وقادہ الشیطان إلی جبل فأتبعَہ، فما استطاع أن یفارقہ، ومات قائلا إیلی إیلی لما سبقتنی، ومع ذلک إلٰہٌ وابن إلہ سبحانہ، إن ہذا إلّا بہتان مبین۔ وإنی رأیت عیسٰی علیہ السلام مرارًا فی المنام ومرارًا فی الحالۃ فہم کے جو اس کو امور دنیا میں حاصل ہے ایک عاجز بندہ کی پرستش کرے اور اس کو اپنا رب سمجھے حالانکہ وہ حقیقی معبود اور پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اگر چاہے تو ہزاروں عیسٰی بلکہ اس سے افضل اور اعلیٰ پیدا کر دے اور پیدا کرسکتا ہے اور اس کے بھیدوں کو کون جانتا ہے پس ان باتوں سے توبہ کرو کہ اس کا کوئی شریک ٹھہراؤ اور اس کے فرمانبردار بدل بن جاؤ اور کس طرح ہم گمان کریں کہ عیسیٰ ہی خدا ہے اور ہم نے تو کوئی ایسا فلسفہ نہیں پڑھا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایک آدمی کھاتا پیتا بَول کرتا پاخانے جاتا سوتا بیمار ہوتا اور علم غیب سے بے بہرہ اور دشمنوں کو دفع کرنے سے عاجز ہو اور مصیبت کے وقت شام سے صبح تک دعا کرے وہ دعا بھی قبول نہ ہو اور خدا تعالیٰ نہ چاہے کہ اپنے ارادہ کو اس کے ارادہ سے متحد کرے اور شیطان اس کو ایک پہاڑ کی طرف کھینچ لے جائے اور وہ اس کو روک نہ سکے اور اس کے پیچھے چلا جائے اور یہ بات کہتا کہتا مر گیا ہو کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور باوجود ان سب نقصانوں کے خدا بھی ہو اور خدا کا بیٹا بھی۔ اللہ جلّ شانہ‘ ان عیبوں سے پاک ہے اور یہ صریح بہتان ہے۔ اور میں نے بارہا عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بارہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی اور ایک ہی