وصعدت الأدخنۃ إلی السماء ، وہبّت ریاح مفسدۃ مبیدۃ من کل طرفٍ إلی أقصی الأرجاء ، ولو فصّلنا ہذہ الفتن کلہا لاحتجنا إلی المجلّدات، وأبکینا کثیرا من الباکین والباکیات، وزلزلْنا أقدام السامعین۔ وأنتم تعلمون أن لکل داءٍ دواءٌ ، ولکل ظلام ضیاءٌ ، فأراد ربی أن ینیر الدنیا بعد ظلماتہا، واللّٰہ یفعل ما یشاء ، أ أنتم تنکرونہ یامعشر العاقلین؟ ومع ذلک لسنا نمیس کالأمراء ، بل نحن نمشی فی الطِّمْر کالفقراء ، ولا نجرّ ثوب الخیلاء ، ونشکر القیصرۃ وحکامہا علی ما أحسنوا إلینا فی أیّام الضرّاء ، وندعو لہا صدقا وحقا ونرسل إلیہا ہدیۃ الدعاء ، وندعوہا بقول لیّن إلی الإسلام لتدخل فی نعماء أبد الآبدین۔ بید أننا لا نرضی بمذہبہا، ونحسب أنہا من الخاطئین الضالین۔ وأعجبَنا أنہا مع کمال حزمہا ولطافۃ اور بہت سے دخان آسمان کی طرف چڑھے ہیں اور بگاڑنے والی اور ہلاک کرنے والی ہوائیں ہریک طرف اور ہریک ناحیہ سے چلی ہیں اگر ہم ان تمام فتنوں کی تفصیل کرنا چاہیں تو ہمیں کئی کتابیں لکھے کی طرف حاجت پڑے گی اور ہم کئی مردوں اور عورتوں کو رلائیں گے اور سننے والوں کے قدم ہلائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ ہر یک بیماری کی ایک دوا اور ہریک اندھیرے کے واسطے روشنی ہے سو میرے پروردگار نے ارادہ کیا کہ دنیا کو اندھیرے کے بعد روشن کرے کیا اے عقلمندو! تمہیں اس سے کچھ انکار ہے اور باوجود اس کے ہم امیروں کی طرح ناز سے نہیں چلتے بلکہ ہم فقیروں کی طرح پھٹے پورانے کپڑوں میں چلتے ہیں اور رعونت کے کپڑے ہم لٹکانا نہیں چاہتے اور قیصرہ اور اس کے حکام کا ان کے ان احسانوں کی وجہ سے شکر کرتے ہیں جو سختی کے زمانوں میں ہم نے دیکھے ہیں اور قیصرہ کے لئے ہم صدق دل سے دعا کرتے ہیں اور دعا کا ہدیہ اس کو بھیجتے ہیں مگر یہ بات ہے کہ ہم اس کے مذہب پر راضی نہیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ خطا کاروں اور گمراہوں کا مذہب ہے اور ہم ادب اور نرمی سے اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ کی نعمتوں میں داخل ہو جائے اور ہمیں تعجب ہے کہ ملکہ مکرمہ باوجود اس قدر ہوشیاری کے اور لطافت