ملکوت السماء التی لا تنفد ولا تفنی ولا تنقضی بالموت۔ ولا نطلب قہر الناس بالحکومۃ والسیاسۃ والقضاء ، بل نطلب عزیمۃً قاہرۃ الأہواء فی الرّضاء المولٰی الذی ہو أحکم الحاکمین۔ ولیس أصولنا إشاعۃ الفساد والطلاح والتبار، بل ندعو إلی الصلح والصلاح وطریق الأبرار، ونرید أن یتوب الخلق توبۃ الأخیار، وأعظم مدّعائنا أن یطلب الناس حقیقۃَ الإیمان، ویرغبوا إلی فہم دقائق العرفان، ویکثر التراحم والتحنّن فیہم، وینتہوا من السیّئات وأنواع الہنات، فنجتہد لتحصیل ہذاؔ المقصد بالمواعظ الحسنۃ، والدعاء والنظر والہمّۃ۔ ہذہ أصولنا، فمن عزا إلینا خلاف ذٰلک فقد افتری علینا۔ وما أقامنا علی ہذا إلّا الربّ الذی یرسل نورہ عند غلبۃ الظلام، ویبدی دواءًً عند کثرۃ السقام، وینجّی عبادہ المضطرین۔ ولا شک أن الفتن قد کثرت فی الأرض اس آسمانی بادشاہت کو چاہتے ہیں جس کا انجام نہیں اور نہ کبھی وہ زوال پذیر ہے اور نہ مرنے سے دور ہوسکتی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ حکومت اور سیاست اور فرمانروائی کے ساتھ لوگوں کو مغلوب کریں بلکہ ہم ایسے عزم کے طالب ہیں جو رضائے مولیٰ احکم الحاکمین کے لئے نفسانی جذبات پر غالب ہو اور ہمار۱ یہ اصول نہیں کہ ہم فساد اور بدبختی اور ہلاکت کی راہوں کی اشاعت کریں بلکہ ہم ان لوگوں کو صلح اور نیکی اور نکوکاروں کے طریق کی طرف بلاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ایسی توبہ کریں جس طرح نیک لوگ توبہ کرتے ہیں اور ہمارا بڑا مدعا یہی ہے کہ لوگ ایمان کی حقیقت کو ڈھونڈیں اور دقائق عرفان کی طرف رغبت کریں اور باہم رحم اور مہربانی ان میں زیادہ ہو جائے اور بدیوں اور بدکاریوں سے رک جائیں سو ہم ایسے مقصد کے حاصل کرنے کے لئے مواعظہ حسنہ اور دعا اور نظر اور ہمت کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں یہ ہمارا اصول ہے پس جو شخص اس کے برخلاف ہماری طرف کوئی بات نسبت کرے سو اس نے ہم پر افترا کیا اور ہمیں اس بات پر صرف اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے وہ خدا جو اندھیرے کے وقت اپنا نور بھیجتا ہے اور بیماری کی کثرت کے وقت دوا ظاہر کرتا ہے اور اپنے بندوں کو بے قراری کی حالت میں بچالیتا ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ فتنے زمین پر بہت بڑھ گئے ہیں