محمد حسین، وقولُہ إنہ نِعْمَ الرجل ویستحق التحسین، فما نفہَم سرَّ ہذا الأمر ونتعجّب غایۃ التعجّب، کیف أثنی علیہ الرجلُ الذی یسُبّ
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا یرضی عن مؤمن الذی یحب رسول اللّٰہ، و ؔ یشتم نبیَّنا وسیدنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بکلمات ترتجف منہا قلوب المسلمین۔ وما ننکر ہذا الثناء ، لعلّ البطالوی یکون عند
المتنصّرین ہکذا، ولعلہ نطق بکلمۃٍ سرّتْ أعداءََ رسولّ اللّٰہ، ولکنا ما نرٰی أن نتکلم فی ہذا ولا نطوّل الکلام فیہ، وکل أحد یؤخذ بقولہ، واللّٰہُ یری عبادہ الصالحین والطالحین۔
وأما قول ہذا الواشی وزعمہ کأنی
أرید ملکوتًا فی الأرض أو إمارۃ فی القوم، فإن ہی إلا افتراءٌ مبین۔ ونُشہد کل من یسمع أنّا لسنا طالبی ملکوت الأرض، ولا نرید إمارۃ ہذہ الدنیا وزینتہا الفانیۃ، إن نرید إلا
اور کہا کہ یہ شخص اچھا آدمی
اور قابل تحسین ہے۔ سو ہم اس بات کا بھید نہیں سمجھتے اور ہم نہایت متعجب ہیں کہ کس طرح محمد حسین کی ایسے شخص نے تعریف کی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور کسی
ایسے مومن سے راضی نہیں جو محب رسول اللہ ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کلموں کے ساتھ گالیاں نکالتا ہے جس سے مسلمانوں کے دل کانپ جاتے ہیں اور ہم تعریف سے انکار
نہیں کرتے شاید شیخ بٹالوی کرشٹانوں کی نظر میں ایسا ہی ہو اور شاید وہ کوئی ایسا کلمہ بول اٹھا ہے جو دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا معلوم ہوا لیکن ہم مناسب نہیں دیکھتے جو اس بارے
میں کلام کریں اور اس امر میں ہم کلام کو طول دینا نہیں چاہتے اور ہریک اپنے قول سے پکڑا جائے گا اور خدا تعالیٰ نیک بختوں اور بدبختوں کو دیکھ رہا ہے۔
اور اس نکتہ چین کا یہ قول اور یہ گمان
کہ گویا میں دنیا کی بادشاہت چاہتا ہوں یا اپنی قوم میں امیر بننے
کی مجھے خواہش ہے سو یہ باتیں کھلا کھلا افترا ہے۔ اور ہم ہر ایک کو جو سننے والا ہے گواہ کرتے ہیں جو ہم دنیا
کی بادشاہت کے
طالب نہیں اور نہ ہم دنیا کی امیری کو چاہتے ہیں اور نہ ہم اس دار فانی کی زینت کے خواہشمند ہیں ہم صرف