لأحد أن یدلّی بغرورٍ ہذہ الدولۃَ أو یخدعہا، فإنہا تعرف الخائن القتّاتَ، والدُّخْلُلَ الکاذبَ المِقتاتَ، ولا تشتعل کالمخدوعین، بل تُہجِّمُ
عِقابَہا علی المفترین، وتحملق إلی الذین یسطون علی الضعفاء ولا تترُکَنْ سِیَرَ الظالمین۔ فالحجۃ التی تُبرِّئنا من وشایۃ ہذا الرجل وتُنقِذنا من إبرامہ وتُبعِد علیہ نیلَ مرامہ، فہو ما ذکرنا آنفا۔ واللّٰہ یعلم أنّا نحن
براءٌ من ہذہ البہتانات، بل نحن مستحقون أن تُسبِغ الدولۃ علینا مِن أعظم العطیّات، وتجزی جزاءً خیرًا بمزایاہا وتعیننا عند الضرورات، وتحسبنا من المحسنین۔ ہذا ہو الأمر الذی لیس فیہ تفاوتٌ مثقال ذرّۃ
ویعلمہ العالمون۔ ولکن لیس عندنا علاج الواشی الوقیح والزُّمَّحِ المَضِیح، وقد قلنا کلَّ ما ہو مَدْحَرۃ الکاذبین۔
وأمّا ثناء ہذا الرجل علی الشیخ البطالوی، أعنی صاحب جریدۃ الإشاعۃ
کوئی شخص اس
گورنمنٹ کو دھوکا اور فریب نہیں دے سکتا کیونکہ وہ خیانت پیشہ نکتہ چین کو اور ایسے کو جو دخل
بیجا دینے والا اور جھوٹی مخبری کرنے والا ہو خوب پہچانتی ہے اور دھوکا کھانے والوں
کی
طرح نہیں بھڑکتی بلکہ اس کی عقوبت مفتری کو یکدفعہ پکڑ لیتی ہے اور ان کی نظر عتاب ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ضعیفوں پر
حملہ کرتے ہیں اور ظالموں کی خصلت کو نہیں
چھوڑتے۔ پس وہ حجت جو اس شخص کی مخالفانہ مخبری سے ہم کو بری کرتی اور اس کی
مضبوطی فریب سے ہم کو نجات دیتی ہے اور اس کو اپنے مقصود سے ناکام رکھتی ہے سو وہی دلائل
بریت ہیں جو ہم ابھی لکھ چکے ہیں
اور خدا تعالیٰ جانتا ہے جو ہم ان بیجا الزاموں سے بری ہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں جو سرکار
انگریزی اپنے کامل انعام سے ہم کو متمتع فرماوے اور
ہمارے نیک کام کی جزا بڑھ کر دیوے اور ضرورتوں
کے وقت ہماری مدد کرے اور ہمیں اپنے احسان کرنے والوں میں سے خیال کرے۔ یہ وہ بات ہے جس میں ایک ذرہ کے برابر
فرق نہیں اور
جاننے والے اس کو جانتے ہیں مگر ہمارے پاس ایسے شخص کا علاج نہیں جو نکتہ چین بے حیا
اور سفلہ اور عیب ڈھونڈھنے والا ہو اور ہم وہ سب باتیں کہہ چکے ہیں جن میں ان جھوٹوں کا رد
ہے۔
اور جو اس شخص نے شیخ بٹالوی کی تعریف لکھی ہے یعنی محمد حسین صاحب رسالہ اشاعۃ السنۃ کی