وفی ضلال مبین۔ فتندّمَ غایۃَ التندّم، واضطر کمذبوح واعتاص الأمر علیہ، فما رأی طریقا یُرضی بہ قومہ إلا طریق البہتانات، فاختارہ لیستر عُوارہ بتلک المفتریات۔ فأُشرِبَ فی قلبہ أن یستمدّ بوشاۂ من أہل الحکومۃ والولایۃ، ویریش بکلمات الشر نَبْلَ السعایۃ، لعلہم یصلبوننی أو یقتلوننی، ویعلو أمر قوم متنصّرین۔ فمنشأ تحریرا تہ ہذہ الخطرات المنسوجات لا غیرہا، وما اختار ہذا إلا لعدم علمہ بمراحم الدولۃ علینا وحقوق مخزونۃٍ لدیہا ولدینا۔ وقد تَہادَینا بأمور تزید الوِفاقَ، وتُخرج من القلوب النفاقَ۔ فلیس علی سمائنا الغمامُ ا لیعزوہ إلی ظلامِ النمّامُ، ولیس فی کنانتنا مرماۃ واحدۃ لنخاف المناضلین۔ وما رأی ہذا المتجنّی الغبیّ أن الدولۃ البرؔ طانیۃ فہیمۃ مدبّرۃ تعرف کل کلمۃ وما تحتہا، وتفہم کل افتراء وأہلہ، ولا تتبع رأی کل قَتّاتٍ ضَنینٍ۔ فما کان اورکھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔ پس یہ شخص نہایت ہی شرمندہ ہوا اور ایسا بے قرار ہوا جیسا کہ کوئی ذبح کیا جاتا ہے اور اس پر کام مشکل ہوگیا پس اس کو کوئی ایسا راہ نہ مل سکا جس سے وہ اپنی قوم کو راضی کرسکتا مگر ایک بہتان کا طریق کھلا تھا سو اس کو اس نے اختیار کر لیا تا وہ ان مفتریات سے اپنی پردہ پوشی کرے سو اس کے دل میں یہ خیال رچ گیا کہ سرکار انگریزی کے حکام اور اہل حکومت سے بذریعہ اپنی جھوٹی مخبری کے اس کام میں مدد لیوے اور اپنی سخن چینی کے تیر سے شرارت کی باتوں کو پرلگاوے تاکہ حکام مجھ کو پھانسی دے دیں یا قتل کر دیں اور اس طرح سے یہ کرشٹان لوگ غالب آ جائیں۔ سو اصل موجب ان تحریرات کا یہ دلی منصوبے ہیں اور کوئی اور سبب نہیں اور اس نے اس راہ کو محض اس سبب سے اختیار کیا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس گورنمنٹ کی کیسی مہربانیاں ہم پر ہیں اور کیسے باہمی حق ان کے پاس اور ہمارے پاس ہیں اور ہم نے ایسے امور ایک دوسرے کو بطور ہدیہ دیئے ہیں جو موافقت کو زیادہ کرتے ہیں اور نفاق کو دور کرتے ہیں سو ہمارے آسمان پر کوئی بادل نہیں تا کوئی نکتہ چین اس کو اندھیرے کی طرف منسوب کرے اور ہمارے ترکش میں صرف ایک ہی تیر نہیں تاہم مخالف تیر اندازوں سے ڈریں۔ اور اس خطا ُ جو غبی نے یہ بھی نہ سوچا کہ سرکار انگریزی ایک فہیم اور مدبر گورنمنٹ ہے ایسی کہ ہریک کلمہ کو اور جو کچھ اس کے نیچے ہے پہچان لیتی ہے اور ہریک افترا اور اس کے اہل کو سمجھ جاتی ہے اور ہریک نکتہ چین بخیل کی رائے کے پیچھے نہیں لگ جاتی پس