خلیعَ الرسن، مدیدَ الوسن، فمالوا عن الحق إلی الباطل، وترکوا أصحاب الیمین۔ لِم لا ینہاہم أکابرہم عن المنکرات، ولِم لا یمنعونہم مِن نقل الخُطُوات إلی خِطط الخطیّات، ولِم یترکونہم فارغین؟ فعندی من الواجبات أن تُکتَب علیہم خدماتٌ تناسبُ قومَ کل أحد وحرفۃَ کل أحد۔ فلیُعطِ للنجّار فاسًا، وللطارق النفّاشِ مِنْسجا جِرفاسا، وللحجّام مِشْراطا وموسٰی، وللعصّار معصرۃ عظمٰی، لکی یشتغل کل أحد منہم بما ہو أہلہ، ویمتنع منؔ کل فضولٍ ولغوٍ وتأثیم، ولکی یستریح الخلق من شرہم، وعبادُ اللّٰہ من أذاہم، وفی ذلک نفع عظیم لأکابرہم المغبونین۔ وأمّا ہذا الرجل الذی صال علیَّ، فما صال إلا لحاجۃٍ ألجأتْہ إلٰی ذٰلک، وہو أنہ عجِز عن جوابِ سؤالاتٍ قد أوردناہا علیہ وعلی رفقاۂ فی مباحثۃٍ کانت بیننا وبینہم، وتبیّنَ أنہم علی الباطل جو کھلی رسی والا اور دراز خواب والا ہے سو وہ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جھک گئے اور داہنے ہاتھ کی طرف والوں کو چھوڑ دیا۔ ان کے اکابر کیوں ان کو بُری باتوں سے منع نہیں کرتے اور کیوں گناہوں کی طرف قدم اٹھانے سے منع نہیں فرماتے اور کیوں ان کو فارغ بٹھا رکھا ہے۔ سو میرے نزدیک واجبات سے ہے کہ کچھ ایسی خدمات ان پر مقرر کی جائیں جو قوم اور پیشہ کے لحاظ سے ان کے مناسب حال ہوں پس چاہیئے کہ نجّار کو توتیشہ دیا جائے اور دُہننے کے لئے ایک مضبوط دھنکی (پنجن) اور نائی کو نشتر اور استرا اور تیلی کو ایک بڑا سا کوہلو سپرد ہو تاکہ ہریک شخص ان میں سے اس کام میں مشغول ہو جائے جس کا وہ اہل ہے اور تاکہ اس انتظام سے ہر ایک ان میں سے فضول گوئی اور بے ہودہ اور گناہ کی باتوں سے رک جائے تاکہ خلق اللہ اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو ان کی شرارت اور ایذا سے راحت حاصل ہو اور اس انتظام میں ان کے اکابر کو جوزیاں رسیدہ ہیں بہت ہی نفع ہے۔ اور یہ آدمی جس نے مجھ پر حملہ کیا سو اس نے صرف اس اضطرار کی وجہ سے حملہ کیا ہے جو اس کو پیش آئے اور وہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہوگیا جو ہم نے ایک مباحثہ میں جو ان میں اور ہم میں تھا اس پر اور اس کے رفیقوں پر کئے تھے اور کھل گیا کہ وہ لوگ باطل