الغادات ومقاناۃ القینات وغیرہا من الہنات، فسقطوا لأجل ذلک علی الدنیا بالقلب الشحیح، کالذباب علی المخاط والقیح، وکانوا من العقبٰی غافلین۔ ما بقی لہم شغل من غیر شرب الصہباؔ ء ، وإسبال ثیاب الخیلاء ، وأکل الخبز السمیذ، ومَلْءِ قِرب البطون بکأس النبیذ، وتوہین المقدّسین۔ أری المُدام سکنہم، والغبوق خدینہم، والبطن دینہم، ونسوا عظمۃ اللّٰہ مجترئین۔ لا تتحامٰی لُسْنُہم من الزور والدجل والمَین، ولا یتقون دَرَنَ الکذب والشَّین۔ ہذہ أعمالہم ثم یسُبّون المعصومین۔ نسوا الآخرۃ، وفرغوا مِن ہمّہا بما غرَّہم الکَفّارۃُ، وغلبت علیہم النفسُ الأمّارۃ۔ یأکلون ما یشاء ون، ویقولون ما یریدون، لا یعرفون أوصاف الإنصاف، ویرتضعون أخلاف الخِلاف۔ وما حملہم علی ذلک إلا النفس التی کانت جانا اور گانے بجانے والی عورتوں سے میل ملاپ رکھنا اور ایسا ہی اور بری خصلتیں پس وہ اسی سبب سے لالچ سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ دنیا پر گرے جیسے مکھی پیپ اور رینٹھ پر گرتی ہے اور عاقبت سے بالکل غافل رہے اور ان کو بجز اس کے اور کوئی شغل نہیں رہا کہ شراب پیویں اور ناز نخرے کے ساتھ لٹکتے ہوئے کپڑے پہنیں اور میدے کی روٹی کھاویں اور پیٹ کی مشک کو شراب کے پیالوں کے ساتھ بھریں اور پاک لوگوں کی توہین کرتے رہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ دوست آرام دہ ان کا خمر ہے اور آدھی رات کی شراب ان کا دلی اور اندرونی یار ہے اور پیٹ ان کا دین ہے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی عظمتوں کو دلیری سے بھلا دیا ہے۔ ان کی زبانیں جھوٹ اور دجالیت اور دروغگوئی سے پرہیز نہیں کرتیں اور نہ دروغگوئی کی میل سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کے عمل ہیں پھر معصوموں کو گالیاں نکالتے ہیں آخرت کو بھلا دیا اور کفارہ کے دھوکہ سے معاد کی فکر سے فارغ ہو بیٹھے اور نفس امارہ ان پر غالب آگیا جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور جو دل میں آتا ہے بول اٹھتے ہیں انصاف کی صفتوں سے ناشناسا اور مخالفت کی چھاتیوں کا دودھ پی رہے ہیں اور اس مخالفت پر کسی اور بات نے ان کو آمادہ نہیں کیا بجز ان کے نفس کے