وجعلوا لہم وظائف، فیأخذ کل أحد منہا ویأکلہا بطّالا ضُجَعۃً نُوَمۃً، وتراہم کیف یتبخترون بالارتداد کتبختُرِ المطلَق من الإسار،
ویہتزّون ہزّۃ الموسِر بعد الإعسار، ویُتلِفون أموال الناس متنعمین۔ فلیت شعری لو بُنِیَتْ من ہذہ الأموال التی تُسکَبُ کالماء فی تنعّمات السفہاء جسرٌ للعابرین أو خانٌ للمسافرین، لکان خیرًا وأولی وأنفع للناس مِن
أن یُبذَل علی ہذہ الطائفۃ مَظاہرِ الخنّاسِ التی أتلفتْ نفائسَ أموال الناس فی الخَضْم والقَضْم، وما مسَّہم فکرُ الدنیا ولا فکر الآخرۃ، وما أخرجہم من الإسلام إلا أسباب معدودۃ، وأکبرہا کثرۃ الحمق وقلۃ التدبّر۔ ثم
مع ذلک سببُ ارتداد الأکثر منہم اضطرامُ الأحشاء والاضطرار إلی العَشاء ، وشُحُّ مطائبِ الطعام، وحرصُ کأس المُدام، والرغبۃُ فی الغِید، والتوقُ إلی الأغارید، والمیلُ إلی مغاداۃ
اور وظیفے مقرر کر
دیئے پس ہر ایک کرشٹان ان میں سے لیتا ہے اور محض نکما لیٹے سوتے اس مال کو کھاتا ہے
اور تو دیکھتا ہے کہ کیونکر مرتد ہونے کی حالت میں وہ لٹکتے پھرتے ہیں جیسے قیدی قید چھوڑ کر لٹکتا
ہوا چلتا ہے اور
ایسے خوشی کر رہے ہیں جیسے وہ شخص خوش ہوتا ہے جو تنگی کے بعد فراخی دیکھتا ہے اور لوگوں کا مال عیاشی میں اڑا رہے ہیں۔
کاش اس مال سے جو ناپاک دلوں کی
عیاشی کے لئے پانی کی طرح بہایا جاتا ہے کوئی پل دریا کے عبور
کرنے والوں کے لئے بنایا جاتا یا مسافروں کے لئے کوئی سرا تیار کی جاتی تو بہت ہی مناسب اور بہتر
اور خلق اللہ کے نفع
کا موجب تھا بہ نسبت اس کے کہ اس طائفہ شیطان کے اوتار پر یہ مال خرچ ہوتا ایسا طائفہ
جس نے کھانے چبانے میں لوگوں کے نفیس اور عمدہ مالوں کو ناحق کھو دیا اور ان کو دنیا اور آخرت کا
فکر چھو
بھی نہیں گیا اور ان کے دین اسلام سے مرتد ہونے کا بڑا باعث کثرت حمق
اور قلت تدبر ہے اور پھر باوجود اس کے ان میں اکثر مرتد ہونے کا سبب بھوک کی آگ کا بھڑک
اٹھنا ہے اور
رات کی روٹی کے لئے بے قرار ہونا اور اچھے اچھے کھانوں کا لالچ اور شراب کی حرص
اور نازک اندام عورتوں کی رغبت اور سرود کے شوق اور لطیف بدن عورتوں کو دیکھنے کے لئے صبح
کو