یَفضُل عنہم ما یصرفون إلی غیرہم، فمن أین وکیف یُفعِمون وِعاءَ البطّالین؟ فلما رأوا أن أہل الإسلام لا یحملون أثقالہم ولا یبالون إقلالہم، توجّہوا إلی قسیسین مصطادین۔ فاجتمعوا فی الکنائس مِن داء الذئب والخَوَی المذیب طمعًا فی أموالہم، وطموحًا إلی إقبالہم، وأخذوا یسرّونہم بإغلاظ الکلام فی شأن خیر الأنام، ویُطْرِفون فی التوہینات واختراع الاعتراضات، لیُروہم أنہم متنفرین من الإسلام وفی التنصر متشددین، ولیحصل لہم قُرْبتہم بوسیلتہا ولیقضوا أوطارہم بتوسطہا ویکونوا فی أعینہم صالحین متنصّلین۔ وکذلک صابت سہامہم وحصل مرامہم، فتریٰ کیف اصطادوا أکابرہم ونہبوؔ ا أموالہم وختلوا جُہّالہم، فأحبّوہم وأحسنوا إلیہم کأنہم فوج المتقین۔ وفرضوا لہم فی صدقاتہم حصّۃً بچت نہیں ہوتی جو کسی دوسرے کو دیں پھر کہاں سے اور کیونکر نکمے لوگوں کے برتن بھر سکیں سو مرتد عیسائیوں نے جب دیکھا کہ مسلمان ان کے بوجھوں کو اٹھا نہیں سکتے اور فقر و فاقہ کی پروا نہیں رکھتے تو شکار ڈھونڈھتے ہوئے پادریوں کی طرف دوڑے۔ سو گرجاؤں میں بھوک کی وجہ سے جو گلاتی جاتی تھی جمع ہوئے اور یہ سب کچھ ان کے مالوں کے لالچ اور ان کے اقبال پر نظر دوڑانے سے ظہور میں آیا اور پھر انہوں نے شروع کیا کہ آنحضرت خیر الانام کے حق میں سخت اور نئے نئے درشت کلمے استعمال کرکے پادریوں کو خوش کرتے اور نئی نئی قسم کی اہانتیں اور اختراع اور اعتراض ان کے لئے بناتے تاکہ ان کو دکھلاویں کہ وہ اسلام سے متنفر اور عیسائی مذہب میں بڑے پکے ہیں اور تاکہ ان بے ادبی کی باتوں سے ان کے خاص مصاحب بن جائیں اور ان کے توسط سے اپنی حاجتیں پوری کریں اور ان کی آنکھوں میں پرہیز گار اور صالح دکھائی دیں اسی طرح ان مرتدوں کے تیر نشانوں پر لگے اور ان کی مرادیں بر آئیں پس تو دیکھتا ہے کہ کیونکر انہوں نے اپنے بڑوں کو شکار کیا اور کیونکر ان کے جاہلوں کو دھوکے دیئے سووہ ان سے پیار کرنے لگے اور ان پر احسان کئے گویا یہ ایک پرہیز گاروں کی فوج ہے۔ اور ان کے لئے اپنے خیراتی مالوں میں حصے ٹھہرا دیئے