کالغُداف، وما نجدہم إلا مترَفین، وسیعلم الدولۃ البریطانیۃ کم منہم من المخلصین الصادقین۔ وواللّٰہ إنّا نشاہد بأعیننا أن أکثرہم قد خرجوا من الإسلام ودخلوا فی النصاری من التکالیف النفسانیۃ وأثقال الدَّین ولَہَبِ الأجوفَین، وکان المسلمون مطّلعین علی عَرِّہم وشَرِّہم، فماؔ بالوہم لاطّلاعہم علی سبب مفرّہم، فتوجہت ہذہ الطائفۃ إلی قسّیسین بما رأوا بصیصَ إقبالہم وزینۃ دنیاہم وکثرۃ مالہم، ومع ذلک وجدوہم غافلین من مقاصدہم کحمقی، وحسبوا الأدیار بُقعۃ النوکَی، فتمایلوا علیہا خادعین۔ وما کان لمسلمی دیارنا أن یربّوا تلک الکسالی، ویکفلوہم فی مآکلہم ومشاربہم ولبوسہم ویترکوہم معذورین مستریحین کالحبالی، ویحملوا نفقاتہم علی أنفسہم، ویترکوہم لیأکلوا ویتمتعوا فارغین، فإن المسلمین قوم ضعفاء مُعسِرین، ولا عاشق ہیں اور دنیا کے مردار کے ایسے دوست ہیں جیسے کوا۔ اور ہم ان کو جانتے ہیں کہ دنیاوی نعمتوں نے ان کو بے راہ کر دیا ہے اور عنقریب گورنمنٹ انگریزی جان لے گی کہ کس قدر ان میں مخلص صادق ہیں اور بخدا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اکثر ان میں سے محض تکالیف نفسانیہ اور قرض کے بوجھ اور پیٹ اور عضو نہانی کی سوزشوں کی وجہ سے اسلام سے خارج اور نصاریٰ میں داخل ہوئے اور مسلمان لوگ ان کی حرص کی خارش اور ان کی شرارتوں سے مطلع تھے پس انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی سو یہ لوگ پادریوں کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ انہوں نے ان کے اقبال کی چمک دیکھی اور ان کی زینت دنیا اور کثرت مال کا ملاحظہ کیا اور باایں ہمہ ان کو اپنے اصلی مقاصد سے غافل پایا ایسا کہ جیسے احمق ہوتے ہیں اور انہوں نے گرجاؤں کو ایک بے وقوف لوگوں کا مکان سمجھ لیا سو وہ ان کی طرف دھوکہ دینے کی نیت سے جھک پڑے اور ہمارے ملک کے مسلمان ایسے سست اور کاہل لوگوں کی پرورش نہیں کرسکتے تھے اور یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کے کھانے پینے اور پہننے کے مصارف اپنے ذمہ اٹھا لیں اور ان کو حملد ار عورتوں کی طرح معذور سمجھ کر آرام کرنے دیں اور تمام خرچ ان کے اپنے ذمہ کر لیں اور ان کو صرف کھانے پینے کے لئے فارغ چھوڑ دیں کیونکہ مسلمان ایک ناتوان اور تنگدست قوم ہے اور ان کے مالوں میں اس قدر