أن أدّعی التفردَ فی ہذہ الخدمات، ولی أن أقول إننی وحید فی ہذہ التأییدات، ولی أن أقول إننی حِرْزٌ ؔ لہا وحصنٌ حافظٌ من الآفات،
وبشّرنی ربی وقال ما کان اللّٰہ لیعذّبہم وأنت فیہم۔ فلیس للدولۃ نظیری ومثیلی فی نصری وعونی، وستعلم الدولۃ إن کانت من المتوسّمین۔
وأمّا الذین دخلوا فی الملۃ النصرانیۃ تارکین دین الإسلام، وباعدین
عن ظل خیر الأنام، فما نجدہم قائمین لخدمۃ الدولۃ والمخلصین لہذہ الحضرۃ، بل نجدہم مداہنین منافقین، وما دخلوا أکثرُہم فی دینہم إلا لیستطبّوا لوجعِ الجوع، ولیُفعِموا کأس الولوع، فسینتشرون ذات بُکرۃ إذا
رأوا أنہم أُخرجوا من روض الرتوع، ویعجبون الناس من وشک الرجوع۔ ونحن نراہم مذ أعوام مناجین للإخفار کلئام، ولا نجد فیہم شیئا من الأوصاف إلا عشق الصَّعْف والصِّحاف وإلْفِ الجیفۃ
یہ دعویٰ
کرسکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان
تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ
کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری
نظیر اور مثیل نہیں عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔
مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہوئے اور دین اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم
ان کو
ایسے نہیں دیکھتے کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ
وہ مداہنہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر لوگ دین عیسائی میں محض
اسی لئے داخل ہوئے ہیں تا اپنی
درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تتر بتر
ہو جائیں گے جب دیکھیں گے چراگاہ سے نکالے گئے اور
لوگوں کو اپنے جلد پھرنے
سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو ان کو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول و اقرار توڑنے کو تیار
ہیں اور ہم ان میں بجز اس کے کوئی خوبی نہیں
پاتے کہ وہ شراب اور خوش مزہ کھانوں کے جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں