بعضَ العلماء ، وکفّرونی کالجہلاء ، فما بالیتُہم بعد تفہُّم الحق وانکشاف طریق الاہتداء ، ورأیت أن ہذا ہو الحق فبیّنتُہا ولو کان قومی کارہین۔ فإذا ثبت خلوصی إلی ہذا المقدار، و برہنتُ علیہ بقدرٍ کافٍ لأولی الأبصار، فمن یظن ظن السوء فی أمری بعد إلا الذی خبُث عِرقہ کالفُجّار، وتدرّبَ بالشرّ واللَّذْعِ والأَبْرِ وسِیر الأشرار، وترَک سِیر الصالحین۔ وما کان تألیفی فی العربیۃ إلا لمثل ہذہ الأغراض العظیمۃ، ولم یَخْلُ تنتاب العربیِّین کتبی حتی رأیت فیہم آثار التأثیر، وجاء نی بعض منہم وراسلنی بعض، وبعضہم ہجّنوا، وبعضہم صلُحوا ووافقوا کالمسترشدین۔ وإنی صرفتُ زمانا طویلا فی ہذہ الإمدادات حتی مضت علیَّ إحدی عشر سنۃ فی شغل الإشاعات، وما کنت من القاصرین۔ فلی بعض علماء کے غضب ناک ہونے کا موجب ہوئیں اور جہالت سے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں نے حق کے سمجھنے کے بعد اور ہدایت کا رستہ کھلنے کے پیچھے ان کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے سو میں نے بیان کر دیا اگرچہ میری قوم کراہت کرتی رہی۔ پس جبکہ میرا خلوص اس گورنمنٹ سے اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس قدر دلائل سے اس کو ثابت کر دیا جو دانشمندوں کے لئے کافی ہیں پس جو شخص اس کے بعد میرے پر بدگمانی کرے ایسا آدمی بجز ناپاک فطرت اور بجز ایسے شخص کے جس کی عادت میں نیش زنی اور شرارت داخل ہے اور کون ہو درحقیقت یہ اسی کا کام ہے جو شرارت کو پسند کرتا اور نیک بختی کی راہ کو چھوڑتا ہے۔ اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے در پے پہنچتی رہیں یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط و کتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہوگئے جیسا کہ حق کہ طالبوں کا کام ہے۔ اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے یہاں تک کہ گیارہ برس انہی اشاعتوں میں گذر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔ پس میں