ہٰذہ الأفعال، ولِمَ أرسلتُ ہذہ الکتب التی فیہا منع شدید من الجہاد لہذہ الدولۃ فی دیار العرب وفی غیرہا من البلاد؟ أکنتُ أرجو إنعاما
من سکان تلک البلاد أو کنت أعلم أنہم یرضون عنی بسماع تلک الکلمات ویزیدون فی الأخوّۃ والاتحاد؟ فإن لم یکن لی غرض من ہذہ الأغراض، بل کانت النتیجۃ البدیہۃ سخط القوم وغضبہم علیَّ وطَعْنَہم
بالألسنۃ الحِداد، فبعدہ أیُّ شیء حملنی علی ذلک؟ أکانت لنفسی فائدۃ أخری فی إرسال تلک الکتب إلی دیار لیست داخلۃ تحت الحکومۃ البریطانیۃ، بل ہی ممالک الإسلام ولہم خیالات دون ذلک کما لا یخفی علی
الخواص والعوام؟ فإن کانت فائدۃ مخفیۃ فلیُبیّن لی منؔ کان من المرتابین والمعترضین علیَّ إن کان من الصادقین۔ حاشا، ما کانت فائدۃ من غیر إظہار الحق۔ بل إنی سمعت أن أقوالی ہذہ قد أحفظتْ
کئے اور
کیوں یہ کتابیں جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے۔
ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام
کی امید رکھتا تھا یا میں یہ جانتا تھا کہ وہ
ان باتوں سے مجھ سے خوش ہو جائیں گے اور دوستی
اور برادری میں ترقی کریں گے سو اگر ان غرضوں میں سے کوئی غرض
نہیں تھی بلکہ کھلا کھلا نتیجہ قوم کی ناراضگی تھی اور ان کی تیز
زبانی کے
ساتھ طعن تھے سو اس کے بعد کس غرض نے مجھ کو اس کام پر آمادہ کیا کیا میرے لئے
ان کتابوں کی ایسے ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے
بلکہ
وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا
اور اگر کوئی فائدہ پوشیدہ تھا تو ایسا شخص جو میرے پر بد ظن رکھتا اور اعتراض کرنے والا ہے اس فائدہ کو
بیان کرے اگر
وہ سچا ہے تو سمجھو کہ بجز اظہار حق کے کوئی فائدہ نہیں تھا
بلکہ میں نے سنا ہے کہ یہ میری باتیں اور یہ تحریریں