وخلیلہ محمدن المصطفٰی صلعم قد أمرَنا أن نثنی علی المنعِمین، ونشکر المحسنین، فلأجل ذلک شکرتہا ونصرتہا ما استطعتُ، وبثثتُ
مِنَنَہا وأشعتُہا فی کل بلدۃ مِن مُلکنا المعلوم إلی بلاد العرب والروم، وحثثتُ الناس علی إطاعتہا۔ ومن کان فی شک فلیرجع إلی کتابی البراہین، وإن لم یکفِ لِشَکِّہ فلینظر کتابی التبلیغ، وإنؔ لم یطمئن فلیقرأ کتابی
الحمامۃ، وإن بقی مع ذٰلک شک فلیُفکّر فی کتابی الشہادۃ، ولیس حرام علیہ أن ینظر فی ہذہ الرسالۃ أیضا لیتضح علیہ کیف أعلنتُ بصوت عالٍ فی منع الجہاد والخروج علی ہذہ الدولۃ وتخطیۃ المجاہدین۔
فلو
کنتُ عدوًّا لہذہ الدولۃ لفعلتُ أفعالًا خلاف ذلک، وما أرسلتُ ہذہ الکتب وہذہ الاشتہارات إلی دیار العرب وبلاد إسلامیۃ، وما قدّمتُ قدمی لہذہ النصائح۔ فانظروا یا أولی الأبصار، لِمَ فعلتُ
اور اس کا دوست
محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعریف کریں جن کے ہم نعمت پرور دہ
ہیں اور ان کا ہم شکر کریں جن سے ہمیں نیکی پہنچی ہو پس اسی وجہ سے میں نے اس
گورنمنٹ کا شکر کیا اور جہاں تک بن پڑا اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ
میری کتاب براہین احمدیہ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس کے شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری کتاب تبلیغ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری
کتاب حمامۃ البشریٰ کو پڑھے اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب شہادۃ القرآن میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو اس رسالہ کو بھی دیکھے تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں
نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ خطا پر ہیں۔
پس اگر میں اس گورنمنٹ کا دشمن ہوتا تو میں ایسے کام کرتا جو میری
اس کارروائی کے مخالف ہوتے اور
یہ کتابیں اور یہ اشتہار بلاد عرب اور تمام بلاد اسلامیہ کی طرف روانہ
نہ کرتا اور ان نصیحتوں کے لئے آگے قدم نہ اٹھاتا۔ پس اے آنکھوں والو! تم سوچو
کہ میں نے یہ کام کیوں