لا یشکر الناس ماؔ شکر اللّٰہ، واللّٰہ یحب المقسطین۔ وإنّا لن ننسی أیّامًا وأزمنۃ مضت علینا قبلہا، وواللّٰہ ما کان لنا أمنٌ فیہا إلی دقیقتین فضلًا عن یوم أو یومین، وکنا نُمسی ونصبح متخوّفین۔ فأشعتُ تلک الکتب المحتویۃ علی تلک المضامین فی کل دیار وفی أناس أجمعین، وأرسلتہا إلی دیار بعیدۃ من العرب والعجم وغیرہا، لعل الطبائع الزایغۃ تکون مستقیمۃ بمواعظہا، ولعلّہا تکون صالحۃ لشُکر الدولۃ وامتثالہا، وتقلّ غوائل المفسدین، ولعلہم یعلمون أن ہذہ الدولۃ محسنۃ إلیہم فیحبونہا طائعین۔ ہٰذا عملی وہذہ خدمتی، واللّٰہ یعلم نیّتی، وہو خیر المحاسبین۔ وما فعلت ذلک خوفًا من ہذہ الدولۃ أو طمعًا فی إنعامہا وإکرامہا، إن فعلتُ إلّا للّٰہ وامتثالا لأمر خاتم النبیین۔ فإن نبیّنا وسیّدنا ومولانا حبیب اللّٰہ آدمیوں کا شکر نہیں کرتا اس نے خدا کا بھی شکر نہیں کیا اور خداا نہیں کو دوست رکھتا ہے جو طریق انصاف پر چلتے ہیں اور ہم ان دنوں اور ان زمانوں کو بھول نہیں گئے جو اس گورنمنٹ سے پہلے ہم پر گذرے اور بخدا ہمیں ان وقتوں میں دو منٹ بھی امن نہیں تھا چہ جائیکہ ایک دن یا دو دن ہو اور ہم ڈرتے ڈرتے شام کرتے اور صبح کرتے تھے۔ سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو یعنی دور دور کی ولایتوں میں بھیجا ہے جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں سے براہ راست آ جائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے اس کی اطاعت کریں۔ یہ میرا کام اور یہ میری خدمت ہے اور خدا میری نیت کو جانتا ہے اور وہ سب سے بہتر محاسبہ کرنے والا ہے اور مَیں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امید وار ہوکر کیا ہے بلکہ یہ کام محضِ للہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کیا ہے کیونکہ ہمارے نبی اور ہمارے سردار اور ہمارے مولا نے جو خدا کا پیارا