شرمناک کارستانی ہے کیونکہ ہم نے تو لکھ دیا ہے کہ صرف پادری لوگ اور بے دین آدمی اس کے مقابلہ سے عاجز رہ سکتے
ہیں سچے مسلمان عاجز نہیں ہیں۔ پس اگر شیخ صاحب بالمقابل رسالہ پیش کرتے تو پادریوں کی اور بھی ذلت ہوتی اور لوگ کہتے کہ مسلمانوں نے ہی یہ رسالہ بنایا تھا اور مسلمانوں نے ہی اس کے
مقابل پر ایک اور رسالہ بنا دیا مگر پادریوں سے کچھ نہ ہو سکا۔ ماسوا اس کے تین ہزار روپیہ انعام پاتے الہام کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیتے اور قوم میں عزت حاصل کر لیتے۔ اور بعض ان کے پرانے
دوست جو کہہ رہے ہیں کہ بس معلوم ہوا جو محمدحسین اردو دان ہے عربی نہیں جانتا یہ تمام شک ان کے دور ہو جاتے۔ مگر اب جو وہ مقابلہ سے دستکش ہو گئے تو آئندہ حیا سے بہت بعید ہو گا کہ
اس جماعت کا نام منشی رکھیں اور خود ان امور سے گریز کریں جو مولویت کے منصب کے لئے شرط ضروری ہیں۔ ان لوگوں کا عجیب اعتقاد ہے جو اب بھی ان لوگوں کو عربی دان ہی سمجھ رہے ہیں
اور مولوی کر کے پکارتے ہیں نہایت خیر خواہی کی راہ سے پھر میں آخری دعوت کرتا ہوں اور پہلے رسالوں کے مقابلہ سے نومید ہوکر رسالہ سر الخلافہ کی طرف شیخ صاحب کو بلاتا ہوں۔ آپ کے
لئے ستائیس دن کی میعاد اور ستائیس روپیہ نقد کا انعام مقرر کیا گیا ہے اور میں اس پر راضی ہوں کہ یہ روپیہ آپ ہی کے سپرد کروں اگر آپ طلب کریں اور ہم نہ بھیجیں تو ہم کاذب ہیں۔ ہم پہلے ہی یہ
روپیہ بھیج سکتے ہیں مگر آپ اقرار شائع کر دیں کہ میں ستائیس دن میں رسالہ بالمقابل شائع کر دوں گا۔ اگر آپ اس مدت میں شائع کر دیں تو آپ نے نہ صرف ستائیس روپیہ انعام پایا بلکہ ہم عام طور پر
شائعؔ کر دیں گے کہ ہم نے اتنی مدت جو آپ کو شیخ شیخ کر کے پکارا اور مولوی محمد حسین نہ کہا یہ ہماری سخت غلطی تھی بلکہ آپ توفی الواقع بڑے فاضل اور ادیب ہیں اور اس لائق ہیں کہ جو
حدیث کے آپ معنے سمجھیں وہی قبول کئے جائیں۔
اب دیکھو کہ کس قدر آپ کو اس میں فتح میسر آتی ہے اور پھر بعد اس کے کچھ بھی حاجت نہیں کہ آپ روپیہ اکٹھا کرنے کے لئے لوگوں کو
تکلیف دیں یا اس نوکری سے استعفاء