دینے کے لئے طیار ہو جائیں۔ کیونکہ جب آپ نے میرا مقابلہ کر دکھایا تو میرا الہام جھوٹا کر دیا تو اس صورت میں میرا تو
کچھ باقی نہ رہا۔ پس آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اگر آپ کو علم عربی میں کچھ بھی دخل ہے ایک ذرہ بھی دخل ہے تو اب کی دفعہ تو ہرگز منہ نہ پھیریں اور اگر اس رسالہ میں کچھ غلطیاں ثابت
ہوں تو آپ کے بالمقابل رسالہ کی غلطیوں سے جس قدر زیادہ ہوں گی فی غلطی ایک روپیہ آپ کو دیا جائے گا پچیس جولائی ۱۸۹۴ ء تک اس درخواست کی میعاد ہے۔ اگر آپ نے ۲۵ جولائی ۱۸۹۴ ء
تک یہ درخواست چھاپ کر بذریعہ کسی اشتہار کے نہ بھیجی تو سمجھا جاوے گا کہ آپ اس سے بھی بھاگ گئے۔
اور مسلمانوں کو لازم ہے کہ ان نادانوں کو جو نام کے مولوی ہیں اور اپنے وعظوں
اور رسالوں کو معاش کا ذریعہ ٹھہرا رکھا ہے خوب پکڑیں اور ہریک جگہ جو ایسا مولوی کہیں وعظ کرنے کے لئے آوے اس سے نرمی کے ساتھ یہی سوال کریں کہ کیا آپ درحقیقت مولوی ہیں یا کسی
نفسانی غرض کی وجہ سے اپنا نام مولوی رکھا لیا ہے۔ کیا آپ نے نور الحق کا کوئی جواب لکھا یا کرامات الصادقین کا کوئی جواب تحریر کیا ہے یا رسالہ سرّ الخلافہ کے مقابل پر کوئی رسالہ نکالا
ہے۔ اور یقیناً یاد رکھیں کہ یہ لوگ مولوی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو لازم ہے کہ نور الحق وغیرہ رسائل اپنے پاس رکھیں اور پادریوں اور اس جنس کے مولویوں کو ہمیشہ ان سے ملزم کرتے رہیں اور ان
کی پردہ دری کر کے اسلام کو ان کے فتنہ سے بچاویں اور خوب سوچ لیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دھوکا دہی کی راہ سے مولوی کہلا کر صدہا مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا اور اسلام میں ایک سخت
فتنہ برپا کردیا۔ والسلام علٰی من اتبع الھدٰی۔
الراقم
خاکسار غلام احمد عفی اللہ عنہ