مَیں ان کا نام وحی اور الہام تو نہیں رکھتا مگر یہ تو ضرور کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی خاص اور خارق عادت تائید نے یہ
رسالے میرے ہاتھ سے نکلوائے ہیں۔ میں نے کئی مرتبہ شائع کیا کہ اگر شیخ صاحب موصوف جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے کہ وہ خذلان میں پڑے ہوئے ہیں اور علم عربیت سے کسی اتفاق سے محروم
رہ گئے ہیں مقابلہ کر کے دکھلا دیں تو وہ اس مقابلہ سے میرے ان تمام دعاوی کو نابود کر دیں گے۔ مگر شیخ صاحب کیوں اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کونسی مصیبت ہے جو ان کو مانع ہے۔ بس یہی
مصیبت ہے کہ وہ لسان عرب سے بے بہرہ اور آج کل خذلان کی حالت میں مبتلا ہیں۔ ان کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ مقابلہ کر سکیں۔ یہ وہی الہام ہے جو ظہور کر رہا ہے کہ انّی مھین من اراد
اھانتک یہ وہی محمد حسین ہے جو اس عاجز کی نسبت جابجا کہتا پھرتا تھا کہ یہ شخص سخت جاہل ہے۔ عربی کیا ایک صیغہ تک اس کو نہیں آتا اور وہ اعلیٰ درجہ کے فاضل جو میرے ساتھ ہیں ان کو
کہتا تھا کہ یہ لوگ صرف منشی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اس کی پردہ دری کرے اور اس کے تکبر کو توڑے اور اس کو دکھلاوے کہ خود پسندی اور عجب کےؔ یہ ثمرات ہیں۔ سو
اس سے زیادہ اور کیا اہانت ہو گی کہ جس شخص کو جاہل سمجھتا تھا اور منبر پر چڑھ کر اور مجلسوں میں بیٹھ کر بار بار کہتا تھا کہ زبان عرب سے یہ شخص بالکل ناآشنا ہے اور اجہل ہے اسی کے
ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے اس کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ اگر یہ نشان نہیں تو چاہیئے تھا کہ محمد حسین اپنے تمام دوستوں سے مدد لیتا اور نور الحق اور کرامات الصادقین کا جواب لکھتا۔ اس شخص کو بڑے
بڑے انعاموں کے وعدے دیئے گئے۔ ہزار *** کا ذخیرہ آگے رکھا گیا مگر اس طرف توجہ نہ کی۔ سو یہ نتیجہ مخالفت حق کا ہے فاتقوا اللّٰہ یا اولی الابصار۔
اور یاد رہے کہ یہ عذر شیخ صاحب
موصوف کا کہ نور الحق میں پادری بھی مخاطب ہیں اس لئے رسالہ بالمقابل لکھنے سے پہلو تہی کیا گیا نہایت مکارانہ عذر ہے۔ گویا ایک بہانہ ڈھونڈھا ہے کہ کسی طرح جان بچ جائے لیکن دانا
سمجھتے ہیں کہ یہ بہانہ نہایت کچا اور فضول اور ایک