کر دے کہ فرشتوں کا نزول اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو آسمان سے خالی کر دیں تو ہم بشوق اس ثبوت کو سنیں گے
اور اگر درحقیقت ثبوت ہوگا تو ہم اس کو قبول کر لیں گے۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے فرشتوں کا وجود ایمانیات میں داخل ہے۔ خدا تعالیٰ کا نزول سماء الدنیا کی طرف اور فرشتوں کا نزول دونوں ایسی
حقیقتیں ہیں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ ہاں کتاب اللہ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ خلق جدید کے طور پر زمین پر فرشتوں کا ظہور ہو جاتا ہے دحیہ کلبی کی شکل میں جبرئیل کا ظاہر ہونا خلق جدید تھا یا کچھ
اور تھا۔ پھر کیا یہ ضرور ہے کہ پہلی خلق کو نابود کر لیں پھر خلق جدید کے قائل ہوں بلکہ پہلا خلق بجائے خود آسمان پر ثابت اور قائم ہے اور دوسرا خلق خداتعالیٰ کی وسیع قدرت کا ایک نتیجہ ہے کیا
خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے کہ ایک وجود دوؔ جگہ دو جسموں سے دکھاوے۔ حاشا وکلا ہرگز نہیں۔ الم تعلم ان اللّٰہ علٰی کل شیء قدیر۔
پھر شیخ بطالوی صاحب نے اپنی دانست میں ہماری کتاب
تبلیغ کی کچھ غلطیاں نکالی ہیں اور ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ تعصب کے جوش سے یا نادانی کی وجہ سے صحیح اور باقاعدہ ترکیبوں اور لفظوں کو بھی غلطی میں داخل کر دیا۔ اگر اس امر کے لئے
کوئی خاص مجلس مقرر ہو تو ہم ان کو سمجھا ویں کہ ایسی شتاب کاری سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہو گئیں۔ یہ علم اور نام مولوی انّا للّٰہ و انّا الیہ راجعون۔ وہ غلطیاں جو
انہوں نے بڑی جانکاہی سے نکالی ہیں اگر وہ تمام اکٹھی کر کے لکھی جائیں تو دو یا ڈیڑھ سطر کے قریب ہوں گی اور ان میں اکثر تو سہو کاتب ہیں اور تین ایسی غلطیاں جو بوجہ نہ میسر آنے نظر ثانی
یا طفرہ نظر کے رہ گئی ہیں اور باقی شیخ صاحب کی اپنی عقل کی کوتاہی اور سمجھ کا گھاٹا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ صاحب نے کبھی لسان عرب کی طرف توجہ نہیں کی۔ بہتر تھا کہ چپ
رہتے اور اور بھی اپنی پردہ دری نہ کراتے۔ ہمیں شوق ہی رہا کہ شیخ صاحب ہماری کتابوں کے مقابل پر کوئی فصیح بلیغ رسالہ نظم اور نثر میں نکالیں اور ہم سے انعام لیں اور ہم سے اقرار کرا لیں کہ
درحقیقت وہ مولوی اور عربی دان ہیں۔
میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ یہ رسائل جو لکھے گئے ہیں تائید الٰہی سے لکھے گئے ہیں۔