مولوی کے نام سے مشہور ہیں کہ متواترات قومی کو جو تاریخ کے سلسلے میں آگئے ہیں قبول نہیں کرتے اور خواہ نخواہ غیر
متعلقہ جزئیات کو تحریف میں داخل کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس موقعہ پر اگر یہودی تحریف کرتے تو وہ تحریف عیسائیوں کے مقصد کے مخالف ٹھہرتی اور اگر عیسائی تحریف کرتے تو
یہودیوں کے دعویٰ کے برعکس ہوتی اور جو لفظ توریت کی کتابوں میں موجود ہیں وہ عیسائیوں کے مقصد کو نہایت مضر پڑے ہیں۔ کیوؔ نکہ ان سے حضرت ایلیا کے نزول جسمانی کی پیشگوئی قبل
از ظہور حضرت مسیح یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں تحریف کرنے میں عیسائیوں کا یہودیوں کے ساتھ اتفاق کرنا ایسا ہے جیسا کہ کوئی اپنے ہاتھ سے اپنا ناک کاٹے۔ وجہ یہ کہ اگر
نزول ایلیا کی پیشگوئی کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو پھر حضرت عیسیٰ کا سچا نبی ہونا محالات میں سے ہے کیونکہ اب تک ایلیا نبی بجسمہ العنصری آسمان سے نازل نہیں ہوا تو پھر عیسیٰ جس کا اس
کے بعد آنا ضروری تھا کیونکر پہلے ہی آ گیا۔ اور اگر ظاہر پر حمل نہ کریں اور نزول ایلیا کو نزول روحانی قرار دیں تو پھر نزول عیسیٰ کی پیشگوئی میں کیوں ظاہر پر جم بیٹھیں۔ نزول برحق اور اس پر
ہم ایمان لاتے ہیں بلکہ اس کا ظہور بھی دیکھ لیا لیکن جن معنوں کے رو سے یہود بندر اور سور کہلائے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں میں *** ٹھہرے اس طور کے نزول کے معنے بعد پہنچنے ہدایت کے
وہی کرے جس کو بندر اور سؤر بننے کا شوق ہو۔ خدا تعالیٰ صادق مومنوں کو ایسے معنوں سے اپنی پناہ میں رکھے جو اس *** کی بشارت دیتے ہیں جو پہلے یہود پر وارد ہو چکی ہے۔ زیادہ اس
مسئلہ میں کیا لکھیں اور کیا کہیں جن کو خدا تعالیٰ ہدایت نہ دے ہم کیونکر دے سکتے ہیں۔ جن کی آنکھیں وہ مالک نہ کھولے ہم کیوں کر کھول سکتے ہیں۔ جن مُردوں کو وہ زندہ نہ کرے ہم کیوں کر کریں۔
اے مالک و قادر خدا اب فضل کر اور رحم کر اور اس تفرقہ کو درمیان سے اٹھا اور سچ ظاہر کر اور جھوٹ کو نابود کر کہ سب قدرت اور طاقت اور رحمت تیری ہی ہے۔ آمین آمین آمین
پھر بعد اس
کے واضح رہے کہ فرشتوں کے نزول سے بھی ہمیں انکار نہیں۔ اگر کوئی ثابت