نہ ظاہری تو اِس تحقیقات سے ثابت ہوا کہ جب سے دنیا کی بنا پڑی ہے یعنی حضرت آدم سے لے کر تا ایں دم کبھی کسی انسان کی نسبت نزول کا لفظ جب آسمان کی طرف نسبت دیا جائے جسمانی نزول پر اطلاق نہیں پایا اورجو دعویٰ کرے کہ پایا ہے وہ اس کا ثبوت پیش کرے۔ اور جب اب تک نزول جسمانی پر اطلاق نہیں پایا تو اب خلاف سنت اللہ اور محاورہ قدیمہ کے جو اس کی کتابوں میں پایا جاتا ہے کیوں کر اطلاق پائے گا ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا۔ اور پھر ہم تنزّل کے طور پر کہتے ہیں کہ اگر کوئی غبی اب بھی اِس صریح اور واضح بیان کو نہ سمجھے تو اتنا تو ضرور سمجھتا ہو گا کہ متنازعہ فیہ مقام میں توفی کا لفظ وہ محکم اور بیّن لفظ ہے جس کے معنے فیصلہ پا گئے اور قطعی طورپر ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنے مارنا ہی فرمایا ہے اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی اِس کے معنے مارنا ہی لکھا ہے اور امام بخاری نے بھی مارنے پر ہی عملی طور پر شہادت دی ہے۔ لیکن اس کے مقابل پر نزول کا جو لفظ ہے اس کی نسبت اگر ایک بڑے سے بڑا متعصب کچھ تاویلیں کرے تو اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایک لفظ ہے جو متشابہات میں داخل ہے۔ لیکن فیصلہ شدہ لفظ اور اُس کے بیّن اور محکم معنوں کو چھوڑ کر متشابہات کی طرف دوڑنا انہیں لوگوؔ ں کا کام ہے جن کے دل میں مرض ہے۔ اگر ایمان ہے تو وہ لفظ جو بیّنات اور محکمات میں داخل ہو گیا اُسی سے پنجہ مارو نہ کسی ایسے لفظ سے جو متشابہات میں داخل رہا اور متشابہات کی تاویل خداتعالیٰ کے علم کی طرف حوالہ کرو تا نجات پاؤ۔ بڑی بھاری نزاع جو ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں ہے یہی ہے جو مَیں نے بیان کردی ہے اور ماحصل یہی نکلا کہ ہم بیّنات اور محکمات سے پنجہ مارتے ہیں جوقرآن سے ثابت ،حدیث سے ثابت، اقوال صحابہ سے ثابت، پہلی کتابوں کے نظائر سے ثابت، سنت اللہ سے ثابت، امام بخاری کے قول سے ثابت، امام مالک کے قول سے ثابت،