اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تحریف کاعذر پیش کر دیتے اور کہہ دیتے کہ تمہاری آسمانی کتابوں کے یہ مقامات محرف ہو
گئے ہیں تو اس جواب سے بھی اگرچہ وہ یہود کا منہ تو بند نہیں کر سکتے تھے تاہم اُن کے خوارق اورمعجزات کو دیکھ کر بہت سے لوگ سمجھ جاتے کہ ممکن ہے کہ یہ دعویٰ تحریف کاسچا ہی ہو
کیونکہ یہ شخص مؤید من اللہ اورالہام یافتہ اور صاحبِ معجزات ہے لیکن حضرت مسیح نے تو ایسا نہ کیا بلکہ آیت کی صحت کا ایلیا کے نزول کی نسبت اقرار کر دیا جس کی وجہ سے اب تک عیسائی
مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں اور یہود کے آگے بات بھیؔ نہیں کر سکتے اور یہود ٹھٹھے سے کہتے ہیں کہ عیسیٰ اُس وقت نبی ٹھہر سکتا ہے کہ جب ہم خدائے تعالیٰ کی تمام کتابوں کو جھوٹی قرار
دے دیں اور اَب تک عیسائیوں کو موقعہ نہیں ملا کہ اس مقام میں تحریف کا دعویٰ کر دیں اور اس بلا سے نجات پاویں کیونکہ اب وہ انیس سو برس کے بعد کیونکر اس قول کی مخالفت کر سکتے ہیں جو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے نکل گیا۔ یہ مقام ہمارے بھائی مسلمانوں کے لئے بہت غور کے قابل ہے۔ اُن کو سوچنا چاہیئے کہ جن ظاہری معنوں پر وہ زور دیتے ہیں اگر وہی معنے سچے ہیں
تو پھر حضرت عیسیٰ کسی طور سے بھی نبی نہیں ٹھہر سکتے بلکہ وہ نبی اللہ تو اُسی حالت میں ٹھہریں گے جب کہ حضرت ایلیا نبی کے نزول کو ایک روحانی نزول مانا جاوے۔
افسوس کہ اٹھارہ
سو نوے برس گذرنے کے بعد وہی یہودیوں کا جھگڑا اِن مولویوں اور فقیہوں نے ا س عاجز کے ساتھ شروع کر دیا اور ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس پہلو کو اِس عاجز نے اختیار کیا وہ حضرت
عیسیٰ کا پہلو ہے اور جس پہلو پر مخالف مولوی جم گئے وہ یہودیوں کا پہلو ہے۔ اب مولویوں کے پہلو کی نحوست دیکھو کہ اس کو اختیار کرتے ہی یہودیوں سے اُن کو مشابہت نصیب ہوئی ۔ ابھی
کچھ نہیں گیا اگر سمجھ لیں۔ اب جبکہ اس تحقیقات سے نزول جسمانی کا کچھ پتہ نہ لگا اور نہ پہلی کتابوں میں اس کی کوئی نظیر ملی اور ملا تو یہ ملا کہ ایلیا نبی کے دنیا میں دوبارہ آنے کا جو وعدہ
تھا اُس سے مراد روحانی نزول تھا