ابن قیّم کے قول سے ثابت، ابن تیمیّہ کے قول سے ثابت اور اسلام کے بعض دوسرے فرقوں کے اعتقاد سے ثابت۔ مگر ہمارے مخالفوں نے صرف نزول کا ذوالوجوہ لفظ پکڑا ہوا ہے جو لغت اور قرآن اور پہلی آسمانی کتابوں کے رو سے بہت سے معنوں پر اطلاق پاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں تشریح نہیں کی کہ اِس سے حضرت مسیح علیہ السلام کا جسمانی نزول مراد ہے نہ اور کچھ کیوں کہ جب کہ نبیوں کے روحانی نزول کے بارے میں ایک پہلی امت قائل ہے اور یہود جو حضرت ایلیا کے جسمانی نزول کے منتظر تھے اُن کا غلطی پر ہونا حضرت مسیح کی زبان سے ثابت ہو گیا اور اِس سنت اللہ کا کہیں پتہ نہ ملا جو جسمانی نزول بھی کبھی کسی زمانہ میں گذر چکا تو یہی معنے متعین ہوئے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے مراد روحانی نزول ہے ورنہ اگر جسمانی نزول بھی سنت اللہ میں داخل ہے تو خداتعالیٰ نے یہودیوں کو کیوں اِس قدر ابتلا میں ڈالا کہ وہ اب تک اِس خیال میں مبتلا ہیں کہ سچا مسیح تب ہی آئے گا کہ جب ایلیا نبی آسمان سے نازل ہو لے۔ جبکہ خداتعالیٰ نے صاف وعدہ کیا تھا کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور پھر اُس کے بعد مسیح آئے گا تو اِس وعدہ کو اس کی ظاہری صورت پر پورا کیا ہوتا اور ایلیا نبی کو آسمان سے زمین پر بجسمہ العنصری اتارا ہوتا تا یہود لوگ جیسا کہ ایک مدت دراز سے پیشگوئی کے معنے سمجھے بیٹھے تھے اور اُن کے فقیہوں اور عالموں اور محدثوں نے نزول جسمانی ایلیا کو اپنے اعتقاد میں داخل کر لیا تھا اس پیشگوئی کا اپنے اعتقاد کے موافق پورا ہونا دیکھ لیتے اور پھر اُن کو حضرت مسیح کی نبوت میں کچھ بھی شک باقی نہیں رہتا۔ مگر اُن پر یہ کیسی مصیبت پڑی کہ ان کی کتابوں میں تو ان کو صاف صاف اور صریح لفظوں میں بتلایا گیا کہ درحقیقت ایلیا ہی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور وہی مسیح سچا ہو گا جو ایلیا کے نزول کے بعد آوے لیکن یہ پیشگوئی اپنے ظاہری معنوں پر پوری نہ ہوئی اور حضرت مسیح تشریف لے آئے اور اُن کو یہود کے سا ؔ منے سخت مشکلات پیش آگئے۔ آخرکار ایک ایسی دور از حقیقت تاویل پر زور ڈالا گیا جس سے یہودیوں کو