مسافر بھی ایک زمین سے دوسری زمین میں جاؔ کر نزیل ہی کہلاتا ہے۔ قرآن کریم میں ان نزولوں کا بھی ذکر ہے جو روحانی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو ہم نے لوہا اتارا ہم نے لباس اتارا ہم نے چارپائے اتارے۔ اور ایلیا یعنی یوحنا کے قصہ سے جس پر یہود اور نصاریٰ کا اتفاق ہے اور بائیبل میں موجود ہے صاف کھل گیا ہے کہ فوت شدہ انبیاء کا نزول اس دنیا میں روحانی طور پر ہوا کرتا ہے نہ جسمانی۔ وہ آسمان سے تو ہرگز نہیں نازل ہوتے مگر اُن کی روحانی خصلتیں کسی مثیل میں باذن اللہ داخل ہو کر روحانی طور پر نازل ہو جاتی ہیں اور ان کی ارادات کا شخص مثیل پر ایک سایہ ہوتا ہے اس لئے اس مثیل کا ظہور ممثل بہ کا نزول سمجھا جاتا ہے۔ بعض اولیاء کرام نے بھی اس قسم کے نزول کا تصوف کی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ غرض عنداللہ یہ قسم بھی ایک نزول کی قسم سے ہے اور اگر یہ نزول نہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کی کتابیں باطل ہوتی ہیں۔ ایلیا کا قصہ جو بائیبل میں موجود ہے ایک ایسا مشہورواقعہ ہے جویہود اور نصاریٰ دونوں فرقوں میں مسلّم ہے اور یہ کمال حماقت ہو گی کہ ہم یہ کہیں کہ ان دونوں فرقوں نے باہم مل کر اس مقام کی آیات کو تحریف کردیا ہے بلکہ نصاریٰ کو یہ قصہ نہایت ہی مُضر پڑا ہے اور اگر اِس جگہ نزولِ ایلیا کے ظاہری معنے کریں تو یہود سچے ٹھہرتے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سچے نبی نہیں تھے کیونکہ اب تک حضرت ایلیا علیہ السلام آسمان سے نازل نہیں ہوئے اور بائیبل کے رو سے ضرور تھا کہ وہ حضرت مسیح سے پہلے نازل ہو جاتے۔ حضرت مسیح کو یہ ایک بڑی دِقت پیش آئی تھی کہ یہود نے ان کی نبوت میں یہ عُذر پیش کر دیا جو درحقیقت ایک پہاڑ کی طرح تھا۔ پس اگر یہ جواب صحیح ہوتا کہ نزول ایلیا کا قصہ محرف ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود کے آگے اسی جواب کوپیش کرتے اور کہتے کہ یہ بات سرے سے ہی جھوٹ ہے کہ ایلیا پھر دنیا میں آئے گا اور ضرور ہے کہ وہ مسیح سے پہلے بجسمہ العنصری آسمان سے اتر آوے۔ مگرانہوں نے یہ جواب نہیں دیا بلکہ آیت کی صحت کو مسلّم رکھ کرنزول کو نزول روحانی ٹھہرایا۔ اور انہیں تاویلوں کے سبب سے یہودیوں نے انہیں ملحد کہا اور بالاتفاق فتویٰ دیا کہ یہ شخص بے دین اور کافر ہے کیونکہ نصوص توریت کو بلا قرینہ صارفہ ان کے ظاہری معنوں سے پھیرتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ