و أہدیہا إلی الربّ الذی ہو خالق الأنام، فإِنّہا أحسنت إلینا وإلی آبائنا، وما کان جزاء الإحسان إلا أن ندعو لہا فی الدنیا دعاء الخیر
والإقبال وفوز المرام، ونسأل اللّٰہ لعُقباہا أن تُرزَق توحید الإسلام، وتنتہج سبل الحق وتؤمن بعظمۃ الملیک العلّام، وتعرف الرب الذی أحدٌ صمدٌ ما ولد وما وُلِد، وتُعطَی نعماء أبد الآبدین۔
فألّفتُ کُتبًا وحرّرتُ فی
کل کتاب أن الدولۃ البریطانیۃ مُحسنۃ إلی مسلمی الہند وتنتجعہا ذراری المسلمین، فلا یجوز لأحد منہم أن یخرج علیہا ویسطو کالباغین العاصین، بل وجب علیہم شکرُ ہذہ الدولۃ وإطاعتہا فی المعروف، فإنہا
تحمی دماء ہم وأموالہم وتحفظہم مِن سطوۃ کل ظالم، وقد نجّتْنا من أنواع الکروب وارتجاف القلوب، فإن لم نشکر فکنا ظالمین۔ فالشکر واجب علینا دینًا ودیانۃ، ومن
اور اس رب کی طرف سے اس کو
راہنمائی کروں جو درحقیقت مخلوقات کا رب ہے کیونکہ اس کا احسان ہم پر اور ہمارے
باپ دادوں پر ہے اور احسان کا عوض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس کی دنیا کی خیر اور
اقبال کے
لئے دعا کریں اور اس کے عقبیٰ کے لئے خدا تعالیٰ سے یہ مانگیں کہ اسلامی توحید کی راہ اس کے
نصیب کرے اور حق کی راہوں پر چلے اور اس بادشاہ کی بزرگی کی قائل ہو جو غیب کی باتیں
جانتا ہے اور اس رب کو
پہچانے جو اکیلا اور تمام مخلوق کا مرجع اور نہ مولود اور نہ والد ہے اور اس کو ابدی نعمتیں ملیں۔
سو میں نے کئی کتابیں تالیف کیں اور ہریک کتاب میں میں نے لکھا کہ
دولت برطانیہ مسلمانوں کی محسن ہے
اور مسلمانوں کی اولاد کی ذریعہ معاش ہے۔ پس کسی کو ان میں سے جائز نہیں جو اس پر
خروج کرے اور باغیوں کی طرح اس پر حملہ آور ہو بلکہ ان پر
اس گورنمنٹ کا شکر واجب ہے اور
اس کی اطاعت ضروری ہے کیونکہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور
ہریک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے اور
درحقیقت ہمیں اسی نے بے قراریوں اور دل کے لرزوں
سے بچایا سو اگر شکر نہ کریں تو ظالم ٹھہریں گے۔ پس شکر ہم پر از روئے دین و دیانت کے واجب ہے اور جو شخص