فلما توفیتنیکہا۔ مَیں بھی فلما توفیتنی کہوں گا۔ دوسر ے ابن عباسؓ سے توفّیکے لفظ کے معنے مارنا ہے۔ تیسر ے امام بخاری
کی شہادت جو اس کی عملی کارروائی سے ظاہر ہو رہی ہے۔
اب سوچ کر دیکھو کہ کیا ہم نے حدیث اور قرآن کوچھوڑا یا ہمارے مخالفوں نے۔ کیا اُنہوں نے بھیتوفّیکے معنے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم اور کسی صحابی سے ثابت کئے جیسا کہ ہم نے کئے ہیں اور پھر بھی ہم اِس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر ہمارے مخالف اِس ثبوت کے مقابل پر جو توفّی کی نسبت ہم نے پیش
کیا اب بھی کوئی دوسرا ثبوت پیش کریں یعنی توفّی کے معنوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور حدیث ہم کو دکھلاویں اور اس کے ساتھ کسی اور صحابی کی طرف سے بھیتوفّی
کے معنی تائیدی طور پر پیش کریں اور بخاری جیسے کسی امام حدیث کی بھی ایسی ہی شہادت توفّی کے معنوں کے بارہ میں پیش کر دیں تو ہم اس کو قبول کر لیں گے مگر یہ کیسی چالاکی ہے کہ خود
تو حدیث اورقرآن کو چھوڑ دیں اور الٹا ہم پرالزام دیں کہ یہ فرقہ قرآن اور حدیث سے باہر ہو گیا ہے۔ اے مخالف مولویو خدا تم پر رحم کرے ذرہ غور سے توجہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ یہ یقینی اور
قطعی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے مقام متنازعہ فیہ میں توفّی کے معنی بجز مارنے کے اور کچھ بھی ثابت نہیں ہوئے اور جو شخص اس ثابت شدہ معنی کو چھوڑتا ہے وہ
قرآن کریم کی تفسیر بالرائے کرتا ہے کیونکہ حدیث کی رو سے بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفّی آیت متنازعہ فیہ میں منقول نہیں۔ اسی وجہ سے شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنی تفسیر فوزالکبیر میں
جو صرف آثار نبوی اور اقوال صحابہ کے التزام سے کی گئی ہے متوفیک کے معنے صرف ممیتک لکھے ہیں۔اگر ان کو کوئی مخالف قول ملتا تو ضرور وہ او کے لفظ سے وہ معنے بھی بیان کر جاتے ۔
اب ہمارے مخالفوں کو شرم کرنا چاہیئے کہ کیوں وہ نصوص صریحہ کو صریح چھوڑ بیٹھے ہیں۔ پس اے بے باک لوگو خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ کیا تم نے ایک دن مرنا نہیں۔ اور نزول کے لفظ پر آپ لوگ ناز
نہ کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس لفظ کا کچھ فیصلہ نہیں فرمایا کہ یہ نزول کن معنوں سے نزول ہے۔ کیونکہ نزول کئی قسم کے ہوا کرتے ہیں اور