الدنیا إلٰی حظیرۃ قدسہ، وأعطانی ما أعطانی، وجعلنی من الملہَمین المُحدَّثین۔ فما کان عندی من مال الدنیا وخیلہا وأفراسہا، غیر أنی
أُعطیتُ جِیاد الأقلام ورُزقتُ جواہر الکلام، وأُعطیتُ مِن نورٍ یؤمّننی العثار، ویبیّن لی الآثار۔ فہذہ الدولۃ الإلہیۃ السماویۃ قد أغنتْنی، وجبرت عَیْلتی وأضاء تنی ونوّرت لیلتی، وأدخلتنی فی المنعَمین۔ فقصدت أن
أعین الدولۃ البرطانیۃ بہذا المال وإن لم یکن لی من الدراہم والخیل والبغال، وما کنت من المتموّلین۔
فقمتُ لإمدادہا بقلمی ویدی، وکان اللّٰہ فی مددی، وعاہدت اللّٰہ تعالی مُذ ؔ ذلک العہد أن لا أُؤلّف کتابًا
مبسوطًا مِن بعد إلا وأذکر فیہ ذکرَ إحساناتِ قیصرۃ الہند وذکرَ مننِہا التی وجب شکرہا علی المسلمین۔ ومع ذلک کان فی خاطری أَنْ أدعو القیصرۃ المکرمۃ إلی الإسلام
نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا
اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور
محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ
عمدہ گھوڑے
قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے
لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے پس اس الٰہی اور
آسمانی دولت نے مجھے
غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں
میں داخل کیا سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ
گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں اگرچہ
میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں۔
سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا
اور میں نے اسی زمانہ سے
خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر
نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر
ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔
اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں