و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذکر خدماتہ لضاق بنا المجال، وعجزنا عن التدوین۔ فالملخص أن أبی لم یزل کان شاءِمَ برقِ الدولۃ، وقائمًا علی الخدمۃ عند الضرورۃ، حتی أعزّتہ الدولۃ بمکاتیب رضاۂا، وخصّتہ فی کل وقتٍ بعطاۂا، وأسمحت لہ بمواساتہا، وتفضلت علیہ بمراعاتہا، وحسبتہ من دواعی الخیرؔ ومن المخلصین۔ ثم إذا تُوفی أبی فقام مقامہ فی ہذہ السِّیَر أخی المیرزا غلام قادر، وغمرتہ مواہب الدولۃ کما غمرت والدی، وتُوُفی أخی بعد أبی فی بضع سنین۔ ثم بعد وفاتہما قفوتُ أثرہما واقتدیتُ سِیَرَہما وذکرت عصرہما، ولکنی ما کنت ذا خصب ونعمۃ وسعۃ وثروۃ ولا ذا أملاک وأرضین، بل تبتّلتُ إلی اللّٰہ بعد ارتحالہما ولحقتُ بقوم منقطعین۔ وجذبنی ربّی إلیہ وأحسن مثوای، وأسبغ علیّ من نعماء الدّین۔ وقادنی مِن تدنّسات کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امید وار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پاگیا تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا۔ بلکہ میں ان کی وفات کے بعد اللہ جلّ شانہٗ کی طرف جھک گیا اور ان میں جا ملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے