الذین جاء ونا ولبثوا بیننا کیف عشنا أمام أعینہم وکیف سبقْنا فیؔ کل خدمۃ مع السابقین۔
ولا حاجۃ إلی تفصیل ہذہ الحقائق، فإن
الدولۃ البریطانیۃ مُطّلِعۃ علی مراتب خلوصنا وشؤون خدماتنا والإعانات التی کانت تری منّا وقتًا بعد وقت وفی أیام فساد المفسدین۔ وتعلم الدولۃ أنّ أبی کیف أمدّہا فی حینِ محارباتٍ مشتدّۃِ الہبوب وفتنٍ مشتطّۃِ
اللّہوب، وأنہ آتی الدولۃ خمسین خیلا مع الفوارس مددًا منہ فی أیام المفسدۃ، وسبَق السابقین فی إمدادات المال عند حلول الأہوال، مع أیام العُسر والإِقلال، وذہابِ عہد الإمارات الآبائیۃ وانقلاب الأحوال۔ فلینظر
من کان لہ نظر صحیح أو قلبٌ أمین۔
ولم یزل کان أبی مشغوف الخدمات حتی شاخ وجاء وقت الوفاۃ
دریافت کر لیوے جو ہماری طرف آئے اور ہم میں رہے اور ہم نے ان کی آنکھوں کے سامنے کیسی
زندگی بسر کی اور کس طرح ہم ہریک خدمت میں سبقت کرنے والوں کے گروہ میں رہے۔
اور ان حقیقتوں کے مفصل بیان کرنے کی کچھ حاجت نہیں کیونکہ سرکار انگریزی ہمارے مراتب
خلوص
اور انواع خدمات پر اطلاع رکھتی ہے اور ان اعانتوں کو جانتی ہے جو وقتاً فوقتاً ہم سے
ظہور میں آئیں خاص کر دہلی کے مفسدہ کے وقت میں۔ اور اس گورنمنٹ
کو یہ معلوم ہے کہ میرے والد
نے کیونکر اس کو ایسے وقت میں مدد دی کہ جب لڑائیوں کی ایک سخت
آندھی چل رہی تھی اور فتنے بھڑک رہے تھے اور حد سے تجاوز کر گئے تھے سو میرے والد نے اس مفسدہ
کے دنوں میں
پچاس گھوڑے معہ سوار اس گورنمنٹ کو امداد کے طور پر دیئے اور اپنی حیثیت کے لحاظ سے امداد
میں سب سے بڑھ گیا باوجود یکہ وہ زمانہ تنگی اور ناداری کا زمانہ تھا اور آبائی ریاست کا دور
ختم ہوکر گردش کے
دن آ گئے تھے پس جو شخص ایک نظر صحیح اور دل امین رکھتا ہے اس کو چاہیئے کہ سوچے؟
اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک
پہنچ گیا اور سفر آخرت