آراؤہا فی أرض مقاصدہا فتفری أدیمَ الأرضین، وکلُّ عقل عندہا إلا عقل الدین۔ ونرجو أن یفتح اللّٰہ علیہا ہذا الباب أیضا کما فتح أبوابا أخری، واللّٰہ أرحم الراحمین۔ ولا یخفی علٰی ہٰذہ الدولۃ المبارکۃ أنّا من خُدّامہا ونُصحاۂا ودواعی خیرہا مِن قدیم، وجئناہا فی کل وقت بقلب صمیم، وکان لأبی عندہا زُلفٰی وخطاب التحسین۔ ولنا لدی ہذہ الدولۃ أیدی الخدمۃ ولا نظن أن تنساہا فی حین۔ وکان والدی المیرزا غلام مرتضٰی ابن میرزا عطاء محمد القادیانی من نُصحاء الدولۃ وذوی الخُلّۃ وعندہا من أرباب القُربۃ، وکان یُصدَّر علی تکرمۃ العزۃ، وکانت الدولۃ تعرفہ غایۃ المعرفۃ۔ وما کُنّا قطُّ من ذوی الظِّنّۃ، بل ثبت إخلاصنا فی أعین الناس کلہم وانکشف علی الحاکمین، ولْتسطلع الدولۃُ حکّامَہا نہیں کر سکتی جس وقت گورنمنٹ اپنے راؤں کو مقاصد کی زمین میں دوڑاتی ہے تو وہ رائیں روئے زمین کو کاٹتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور ہر یک عقل بجز دینی عقل کے اس گورنمنٹ کو حاصل ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ دروازہ بھی اس پر کھل جائے اور خدا ارحم الراحمین ہے۔ اور گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں کہ ہم قدیم سے اس کی خدمت کرنے والے اور اس کے ناصح اور خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہر ایک وقت پر دلی عزم سے ہم حاضر ہوتے رہے ہیں اور میرا باپ گورنمنٹ کے نزدیک صاحب مرتبہ اور قابل تحسین تھا اور اس سرکار میں ہماری خدمات نمایاں ہیں اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہ گورنمنٹ کبھی ان خدمات کو بھلا دے گی اور میرا والد میرزا غلام مرتضیٰ ابن میرزا عطا محمد رئیس قادیان اس گورنمنٹ کے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے تھا اور اس کے نزدیک صاحب مرتبہ تھا اور صدر نشین بالین عزت سمجھا گیا تھا اور یہ گورنمنٹ اس کو خوب پہچانتی تھی اور ہم پر کبھی کوئی بدگمانی نہیں ہوئی بلکہ ہمارا اخلاص تمام لوگوں کی نظروں میں ثابت ہوگیا اور حکام پر کھل گیا۔ اور سرکار انگریزی اپنے ان حکام سے