آثارَ البغاوۃ، ولیس من نُصحاء الدولۃ، وأتیقّن أنہ سیفعل کذا وکذا وأنہ من المخالفین۔ فالملخّص أنہ حَثَّ الحکومۃ فی ذٰلک علی إیذائی، ومع ذلک فرّغ إناء ہ فی سبّی وازدرائی، وأَفرغ قذر لسانہ علی بعض أحبائی، وأکثر القول فی دیانتنا المقدسۃ، وؔ شتَم خیرَ الرسل وبالَغَ فی التوہین۔ وتکلّمَ بکلمات ترتجف منہا القلوب، وتہیِّج فی الأفئدۃ الکروب، وسوف نکتب قلیلًا منہا ونجوّبُ أستار الجاہلین۔ والآن نُنبّہُ الدولۃ العالیۃ مما افتری علینا وزعم کأنّا من أعداء الدولۃ البرطانیۃ، فلیعلم الدولۃ أن ہذہ المقالات کلہا من قبیل صوغ الزور ونسج الشرور، ولیس فیہا رائحۃ الصدق مثقال ذرّۃ، وما حملہ علی ذٰلک إلا بعض المصالح الّتی رأی فی نفس تلک المکائد، ولِیَسُرَّ بہا بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے کام کرے گا اور وہ مخالفوں میں سے ہے۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس شخص نے حکام کو میری ایذا کے لئے برانگیختہ کیا ہے اور ساتھ اس کے مجھے گالیاں دینے اور تحقیر کرنے میں اس قدر مبالغہ کیا ہے کہ جو کچھ اس کے برتن میں تھا سب باہر نکال دیا اور نیز اپنی زبان کی پلیدی میرے بعض دوستوں پر ڈالی اور ہمارے دین مقدس کے بارے میں بہت کچھ بے ہودہ باتیں کیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور توہین میں مبالغہ کیا۔ اور ایسی باتیں کہیں جن سے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان میں بے قراریاں جوش مارتی ہیں اور ہم کسی وقت ان میں سے کچھ تھوڑا سا لکھیں گے اور جاہلوں کے پردے پھاڑ یں گے۔ اور اب ہم گورنمنٹ عالیہ کو ان باتوں کی اصل حقیقت سے مطلع کرتے ہیں جو ہم پر اس نے افترا کیں اور گمان کیا کہ گویا ہم دولت برطانیہ کے بدخواہ ہیں سو گورنمنٹ کو معلوم ہو کہ یہ تمام باتیں از قبیل آرائش دروغ اور شرارت بافی ہیں اور ایک ذرہ بھی سچائی کی بُو ان میں نہیں اور ان باتوں پر اس کو صرف اس کے بعض مصالح نے آمادہ کیا جو اس نے ان فریبوں کے اندر دیکھے ہیں اور ایک یہ بھی اس کی غرض