بالأخلاق، وما زلتِ آخذۃً نفسَک بالرحم والإشفاق، ولا ترضی بجور الجائرین۔ ہذا ؔ خُلُقکِ، ونحن - مع ظل حمایتک - نُلدَغُ مِن شرّ بعض المعادین، ونُعَضُّ من أنیاب العاضّین، ویصول علینا کلُّ ضُلٍّ بن ضُلٍّ ویسُبُّ نبیَّنا الکریم کلُّ جہولٍ مَہینٍ، ویسعی أن نُعَدّ من الباغین۔ و أما تفصیل ہذا المجمل فاعلم یا قیصرۃ۔ تزایَدَ إقبالُک وبارکَ اللّٰہ فی دنیاک وأصلحَ مآلَک۔ أن رجلًا من الذین ارتدوا من دین الإسلام ودخلوا فی الملّۃ النصرانیۃ، أعنی النصرانی الذی یُسمّی نفسہ القسیس عماد الدّین، أَ لّف کتابًا فی ہذہ الأیام لِخَدْعِ العوام، وسمّاہ توزین الأقوال، وذکر فیہ بعض حالاتی بافتراءٍ بحتٍ لا أصل لہ، وقال إن ہذا الرجل رجل مفسد ومن أہل العداوۃ، وإنی وجدت فی طریقۃِ مشیِہ جن پر داغ عیب ہے اور رحم اور شفقت کو تو نے اپنے نفس کے لئے ایک خصلت لازمی ٹھہرا دی ہے اور ظلم کرنے والوں کے ظلم پر راضی نہیں۔ یہ تیرا خلق ہے اور ہم باوجود ظل حمایت تیری کے بعض دشمنوں کے نیش شرارت سے نیش زدہ اور ان کاٹنے والوں کے دانتوں سے کاٹے جاتے ہیں اور ہریک ایسا شخص ہم پر حملہ کرتا ہے جس کے باپ داد و ں کوکوئی نہیں پہچانتا اور ہر ایک جاہل ذلیل ہمارے نبی کریم کی اہانت کر رہا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ہم باغیوں سے گنے جائیں۔ اور اگر اس مجمل کی تفصیل چاہو تو اے قیصرہ تیرا اقبال زیادہ ہو اور خدا تیری دنیا میں برکت دے اور تیرا انجام بھی بخیر کرے۔ تجھے معلوم ہو کہ ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے نکل کر عیسائی ہوگئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دکھوکہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام توزین الاقوال رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں