کو *** اور جہنمی اور ناری سمجھتے ہیں۔ اے شریر مولویو ذرہ مرنے کے بعد دیکھنا کہ اس جلد بازی کی شرارت کا تمہیں
کیا پھل ملتا ہے۔ کیا تم نے ہمارا سینہ چاک کیا اور دیکھ لیا کہ اندر کفر ہے ایمان نہیں اور سینہ سیاہ ہے روشن نہیں۔ ذرہ صبر کرو اس دنیا کی عمر کچھ بہت لمبی نہیں۔
تمہارے نزدیک صرف چند
فتنہ انگیز مولوی جو اسلام کے لئے جائے عار ہیں مسلمان ہیں اور باقی سارا جہان کافر۔ افسوس کہ یہ لوگ کس قدر سخت دل ہو گئے۔ کیسے پردے ان کے دلوں پر پڑ گئے۔ یا الٰہی اس امت پر رحم کر
اور ان مولویوں کے شرّ سےؔ ان کو بچا لے اور اگر یہ ہدایت کے لائق ہیں تو ان کی ہدایت کر ورنہ ان کو زمین پر سے اٹھا لے تا زیادہ شر نہ پھیلے اور یہ لوگ درحقیقت مولوی بھی تو نہیں ہیں تبھی
تو ہم نے ان لوگوں کے سرگروہ اور امام الفتن اور استاد شیخ محمد حسین بطالوی کو اپنے رسالہ نور الحق میں مخاطب کر کے کہا ہے کہ اگر اس کو عربیت میں کوئی حصہ نصیب ہے تو اس رسالہ
کی نظیر بنا کر پیش کرے اور پانچ ہزار روپیہ انعام پاوے مگر شیخ نے اس طرف منہ بھی نہیں کیا حالانکہ شیخ مذکور ان تمام لوگوں کے لئے بطور استاد کے ہے اور اُسی کی تحریکوں سے یہ مُردے
جنبش کر رہے ہیں۔
ہم بار بار کہتے ہیں اور زور سے کہتے ہیں کہ شیخ اور یہ تمام اُس کی ذریات محض جاہل اور نادان اور علوم عربیہ سے بے خبر ہیں۔ ہم نے تفسیر سورۃ الفاتحہ انہیں لوگوں
کے امتحان کی غرض سے لکھی اور رسالہ نور الحق اگرچہ عیسائیوں کی مولویت آزمانے کے لئے لکھا گیا مگر یہ چند مخالف یعنی شیخ محمد حسین بطالوی اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے میاں
رسل بابا وغیرہ جو مکفّر اور بدگو اور بدزبان ہیں اس خطاب سے باہر نہیں ہیں۔ الہام سے یہی ثابت ہوا ہے کہ کوئی کافروں اور مکفروں سے رسالہ نور الحق کا جواب نہیں لکھ سکے گا۔ کیونکہ وہ
جھوٹے اور کاذب اور مُفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔
اگر یہ ہمارے الہام کو الہام نہیں سمجھتے اور اپنے خبیث باطن کی وجہ سے اس کو ہماری بناوٹ