یا شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں تو رسالہ نور الحق کا جواب میعاد مقررہ میں لکھیں اور اگر نہیں لکھ سکتے تو ہمارا الہام ثابت۔ پھر جن لوگوں نے اپنی نالیاقتی اور بے علمی دکھلا کر ہمارا الہام آپ ہی ثابت کر دیا تو وہ ایک طور سے ہمارے دعوے کو تسلیم کر گئے۔ پھر مخالفانہ بکواس قابل سماعت نہیں اور ہماری طرف سے تمام پادریان اور شیخ محمد حسین بطّالوی اور مولوی رسل بابا امرتسری اور دوسرے ان کے سب رفقاء اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کے لئے ہم نے اِن سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ ؁ء تک مہلت دی ہے اور رسالہ بالمقابل شائع کرنے کے لئے روزِ درخواست سے تین مہینہ کی مہلت ہے۔ پھر اگر اخیر جون ۱۸۹۴ ؁ء تک درخواست نہ کریں تو بعد اُس کے کوئی درخواست سنی نہیں جائے گی اور نادانی ان کی ہمیشہ کے لئے ثابت ہو جائے گی اور مولویت کا لفظ اُن سے چھین لیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ ماہ جون ۱۸۹۴ ؁ء کے اندر بالمقابل رسالہؔ بنانے کے لئے درخواست کر دیں تو تمام درخواست کنندوں کی ایک ہی درخواست سمجھی جائے گی اور صرف پانچ ہزار روپیہ جمع کرا دیا جائے گا نہ زیادہ۔ اور ان میں سے جو لوگ رسالہ بالمقابل بنانے میں فتح یاب سمجھے جائیں گے خواہ وہ عیسائی ہوں گے اور یا یہ حق کے مخالف نام کے مولوی اور یا دونوں۔ وہ اس پانچ ہزار روپیہ کو آپس میں تقسیم کر لیں گے اور ان کا اختیار ہو گا کہ سب اکٹھے ہوکر رسالہ بناویں غالباً اس طرح سے ان کو آسانی ہو گی مگر آخری نتیجہ ان کے لئے یہی ہو گا کہ خسر الدنیا والآخرۃ و سواد الوجہ فی الدارین۔ اور اگرہم ان کی اس درخواست کے آنے کے بعدجس پر کم سے کم دس مشہور رئیسوں کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں اور جو کسی اخبار میں چھاپ کر ہمیں رجسٹری کرا کر پہنچانی چاہیئے۔ تین ہفتہ تک کسی بنک میں پانچ ہزا ر روپیہ جمع نہ کرا دیں تو ہم کاذب اور ہمارا سب دعویٰ کذب متصور ہو گا کیونکہ زبانی انعام دینے کا دعویٰ کرنا کچھ چیز نہیں ایک کاذب بد نیت بھی ایسا کر سکتا ہے۔ سچا وہی ہے کہ جو اُس کی زبان سے نکلا اس کو کر دکھاوے۔ ورنہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ لیکن اگر ہم نے روپیہ جمع کرا دیااور