اچھیؔ طرح لکھ نہیں سکتے اور قرآن کریم اور احادیث سے بے خبر ہیں وہ صرف آبائی تقلید کی وجہ سے ہمارے ایسے مخالف
ہو گئے ہیں کہ خدا جانے ہم نے ان کے کس باپ دادے کو قتل کر دیا ہے۔ ان لوگوں کا رات دن کا وظیفہ گالیاں اور ٹھٹھا اور تکفیر ہے گویا کبھی مرنا نہیں۔ کبھی پوچھے جانا نہیں کہ تم نے کیوں
مسلمانوں کو کافر کہا۔ خدا تعالیٰ سے لڑائی کر رہے ہیں ضد سے باز نہیں آتے۔ مگر ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہوتی کہ مہدی معہود یعنی وہی مسیح موعود
جب ظہور کرے گا تو اس وقت کے مولوی اس پر فتوائے کفر لکھیں گے۔ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ لوگ فتویٰ لکھنے والے تمام دنیا کے شریروں سے بدتر ہوں گے اور
روئے زمین پر ایسا کوئی بھی فاسق نہیں ہو گا جیسا کہ وہ اور ہرگز قبول نہیں کریں گے مگر نفاق سے۔ افسوس کہ ان سادہ لوحوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول کے قول کے
مطابق کہتا ہے وہ کیونکر کافر ہو جائے گا ۔ کیا کوئی شخص اس بات کو قبول کر لے گا کہ وہ ہزارہا اکابر اور اہل اللہ جو تیرہ سو برس تک یعنی ان دنوں تک حضرت عیسیٰ کا فوت ہو جانا مانتے چلے
آئے وہ سب کافر ہی ہیں۔ اور نعوذ باللہ امام مالک رضی اللہ عنہ بھی کافر ہیں جنہوں نے کروڑہا اپنے پیروؤں کو یہی تعلیم دی اور نعوذ باللہ امام بخاری بھی کافر جنہوں نے حضرت عیسیٰ کی موت کے
بارے میں اپنے صحیح میں ایک خاص باب باندھا۔ ابن قیم بھی کافر جنہوں نے ان کو حضرت موسیٰ کی طرح موتٰیمیں داخل کیا۔ اور ان بزرگوں کے مسلمان جاننے والے بھی سب کافر۔ اور معتزلہ تمام
کافر جن کا مذہب ہی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ درحقیقت فوت ہو گئے۔
اے بھلے مانس مولویو کیا تمہیں ایک دن موت نہیں آئے گی جو شوخی اور چالاکی کی راہ سے سارے جہان کو کافر بنا دیا
خداتعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے اس کو یہ مت کہو کہ لَسْتَ مُؤْمِنًا یعنی اس کو کافر مت سمجھو وہ تو مسلمان ہے۔ لیکن تم نے ان کو کافر ٹھہرایا جو تمام ایمانی عقائد میں تمہارے
شریک ہیں۔ اہل قبلہ ہیں اور شرک سے بیزار اور مدارِ نجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی جانتے ہیں اور پیروی سے منہ پھیرنے والے