زبان ان کی کنجی رہے گی اور جب تک کوئی میرے دروازہ پر ایک مدت ٹھہر کر اور میری شاگردی اختیار کر کے اس مجموعہ بکواس کو سبقاً سبقاً مجھ سے نہ پڑھے تب تک ممکن ہی نہیں کہ ان اوراق پراگندہ سے کچھ حاصل ہو سکے۔ اے فضول گو مولوی اگر تیرے دلائل ایسے ہی گور میں پڑے ہوئے اور تاریکی میں اترے ہوئے ہیں کہ وہ تیری کتاب میں ایک زندہ ثبوت کی طرح اپنا وجود بتلا ہی نہیں سکتے تو ایسی بیہودہ اور فضول کتاب کے بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی جب تجھے خود معلوم تھا کہ دلائل نہایت نکمے اور بے معنی ہیں یہاں تک کہ تیرے زبانی بکواس کے سوا بے نشان ہیں تو ایسی کتاب کا لکھنا ہی بے سود تھا۔ بلکہ ان کا دلائل نام رکھنا ہی بے محل اور جائے شرم اور یاوہ گوئی میں داخل ہے۔ اگرچہ اس پُر فتن دنیا میں ہزاروں طرح کے فریب ہو رہے ہیں مگر ایسا فریب کسی نے کم سنا ہو گا کہ جو اس مولوی رسل بابا صاحب نے کیا کہ دلائل سمجھنے کے لئے شاگردی اور سبقاً سبقاً کتاب پڑھنے کی شرط لگا دی اور دل میں یقین کر لیا کہ یہ تو کسی دانا سے ہرگز نہیں ہو گا کہ ایک نادان غبی کی شاگردی اختیار کرے اور اس کے شیطانی رسالہ کو سبقاً سبقاً اس سے پڑھے اس امید سے کہ حضرت مسیح کی زندگی کے دلائل ایسے پوشیدہ طور پر اس کی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں کہ تمام دنیا اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ نہیں سکتی اور نہ ان کے رسالہ میں ان کا کچھ پتا لگا سکتی ہے۔ اگرچہ ہزار یا کروڑ مرتبہ پڑھے اورنہ رسالہ میں ان کا کچھ پتہ لگ سکتا ہے کہ کہاں ہیں۔ صرف مصنف کی رہنمائی سے نظر آ سکتے ہیں۔ ورنہ قیامت تک پتہ لگنے سے نومیدی ہے۔ اے ناظرین کیا آپ لوگوں نے کبھی اس سے پہلے بھی کوئی ایسی کتاب سنی ہے جس کے دلائل کتاب میں درج ہو کر پھر بھی مصنف کے پیٹ میں ہی رہیں۔ افسوس کہ آج کل کے ہمارے مولویوں میں ایسی ہی بیہودہ مکاریاں پائی جاتی ہیں جن سے مخالفین کو ہنسی اور ٹھٹھے کا موقعہ ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جو فاضل اور عالم اور واقعی اہل علم ہیں وہ تو ان کوتہ اندیشوں اور نادانوں سے کنارہ کر کے ہماری طرف آتے جاتے ہیں۔ رہے نام کے مولوی جو اردو بھی