إعلاءُُ کلمۃ الإسلام، وہذا وقتہ، فلا تضیّعوا وقتکم، وقوموا کالخادمین۔ أیہا المسلمون فِرّوا إلی اللّٰہ، واتقوا الفتن التی ہاجت وماجت حولکم وفیکم، واعملوا عملًا ؔ یرضاہ لیکون لکم زُلفٰی لدیہ، ولتأخذکم رقّۃٌ علی دینکم فإنہ ضعُف وبدأ الشیب بفَوْدَیہ، والشیب غیر طبعی حدَث من نوازل الحادثات والتکالیف المتتابعات، ولینظر کل أحدٍ منکم عملَہ، ولیُفتّش خطراتِہ، ولیَزِنْ بِضاعتَہ التی أعدّہا للآخرۃ، ولینقدْ دراہمہ التی جمعہا لذلک السفر، ہل ہی وازنۃ جیدۃ أو مغشوشۃ ناقصۃ، ولا یخدع نفسہ، ولا یُغرِّرْ بنفسہ من المغشوشات، ولیتدارکْ قبل ذہاب الوقت، ولا تقعد کالغافلین أیہا الناس زَکُّوا نفوسکم، وطہِّروا صدورکم، ولا تُفرِحْکم جیفۃُ الدنیا وشحومہا، ولا تجلبکم إلیہا کِلابہا، ولا تموتوا إلا مسلمین قربت کیلئے کئے جاتے ہیں کلمہ اسلام کی بلندی چاہنا زیادہ ثواب کا موجب ہے پس اپنے وقتوں کو ضائع مت کرو اور خادموں کی طرح اٹھ کھڑے ہو اے مسلمانوں خدا کی طرف بھاگو اور ان فتنوں سے جو تمہارے آگے پیچھے اور تم میں موجیں مار رہے ہیں اور اٹھ رہے ہیں اور وہ عمل کرو جس سے خدا راضی ہو جاوے تا تمہیں خدا تعالیٰ کے نزدیک درجہ ملے اور چاہیئے کہ تمہیں اپنے دین پر کچھ شفقت پیدا ہو کیونکہ وہ ضعیف ہوگیا اور اس کی کنپٹیوں میں بڑھاپے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں اور یہ بڑھاپا غیر طبعی ہے جو حوادث نزلہ کے سبب سے اور تکالیف متواترہ کے باعث سے ظاہر ہو گیا ہے اور چاہیئے کہ ہر ایک شخص اپنے عملوں کو دیکھے اور اپنے دل کے خیالات کو ٹٹولے اور اپنی اس بضاعت کو تولے جو آخرت کے لئے تیار کی ہے اور اپنے اس روپیہ کو کھرا کرے جو اس سفر کے لئے تیار کیا ہے کیا وہ پورے وزن کا اور کھرا ہے یا کھوٹا اور کم وزن کا ہے اور چاہیئے کہ اپنے نفس کو دھوکا نہ دیوے اور اس کو خطرہ میں نہ ڈالے اور چاہیئے کہ وقت سے پہلے تدارک کرے اور غافلوں کی طرح مت بیٹھا رہے۔ اے لوگو اپنے نفسوں کو صاف کرو اور اپنے سینوں کو پاک بناؤ اور تمہیں دنیا کا مردار اور اس کی چربی بے ہودہ خوش نہ کرے اور اس کے کتے تمہیں اس گوشت کی طرف نہ کھینچیں اور بجز پاک مسلمان ہونے کی حالت کے