عیسیٰ علیہ السلام کی قبر۱؂ ہے اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیئے۔ اورؔ ثابت کرنا چاہیئے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا ہے اور اس صورت میں دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہیں رہے گی اور امان اٹھ جائے گا۔ اور کہنا پڑے گا کہ شاید وہ تمام قبریں جعلی ہی ہوں۔ بہرحال آیت فلمّا توفیتنی سے یہی معنے ثابت ہوئے کہ مار دیا۔ بعض نادان نام کے مولوی کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ اس آیت فلمّا توفیتنی کے مارنا ہی معنے ہیں نہ اور کچھ لیکن وہ موت نزول کے بعد وقوع میں آئے گی اور اب تک واقع نہیں ہوئی۔ لیکن افسوس کہ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اس طور سے آیت کے معنے فاسد ہو جاتے ہیں کیونکہ آیت کے معنے تو یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ جناب الٰہی میں عرض کریں گے کہ میری امت کے لوگ میرے مرنے کے بعد بگڑے ہیں۔ یعنی جب تک میں زندہ تھا وہ سب صراط مستقیم پر قائم تھے اور میرے مرنے کے بعد میری امت بگڑی۔ نہ میری زندگی میں۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ ان کی امت بھی اب تک بگڑی نہیں۔ کیونکہ آیت اپنے منطوق سے صاف ۱؂ جب میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی نسبت حضرت سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی الشامی سے بذریعہ خط دریافت کیا تو انہوں نے میرےؔ خط کے جواب میں یہ خط لکھا جس کو میں ذیل میں معہ ترجمہ لکھتا ہوں۔ یا حضرۃ مولانا وامامنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نسأل اللّٰہ الشافی ان یشفیکم۔ اماما سالتم عن قبر عیسی علیہ السلام وحالات اخری مما یتعلق بہ فابیّنہ مفصّلا فی حضرتکم وھو ان عیسٰی علیہ السلام ولد فی بیت لحم وبینہ وبین بلدۃ القدس ثلثۃ اقواس وقبرہ فی بلدۃ القدس والی الان موجود وھنالک کنیسۃ وھی اکبر الکنائس من کنائس النصاری وداخلہا قبر عیسٰی علیہ السلام کما ھو مشہود وفی تلک الکنیسۃ ایضا قبر امہ مریم ولکن کل من القبرین علیحدۃ وکان اسم بلدۃ القدس فی عھد بنی اسرائیل یروشلم ویقال ایضا اورشلیم وسمّیت من بعد المسیح ایلیاء ومن بعد الفتوح الاسلامیۃ الی ھذا الوقت اسمہا القدس والاعاجم تسمیہا بیت المقدس