ذات کی نسبت منسوب کر لیا جیسا کہ وہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب تھی اور منسوب کرنے کے وقت یہ نہ فرمایا کہ اس آیت کو جب حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کریں تو اس کے اور معنے ہوں گے اور جب میری طرف منسوب ہو تو اس کے اور معنے ہیں۔ حالانکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت میں کوئی معنوی تغییر و تبدیل ہوتی تو رفع فتنہ کے لئے یہ عین فرض تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس تشبیہ و تمثیل کے موقعہ پر فرما دیتے کہ میرے اس بیان سے کہیں یوں نہ سمجھ لینا کہ جس طرح میں قیامت کے دن فلمّا توفیتنی کہہ کر جناب الٰہی میں ظاہر کروں گا کہ بگڑنے والے لوگ میری وفات کے بعد بگڑے۔ اسی طرح حضرت مسیح بھی فلمّا توفیتنیکہہ کر یہی کہیں گے کہ میری وفات کے بعد میری امت کے لوگ بگڑے کیونکہ فلمّا توفیتنی سے میں تو اپنا وفات پانا مراد رکھتا ہوں لیکن مسیح کی زبان سے جب فلمّا توفیتنی نکلے گا تو اس سے وفات پانا مراد نہیں ہوگا بلکہ زندہ اٹھایا جانا مراد ہوگا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرق کر کے نہیں دکھلایا جس سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موقعوں پر ایک ہی معنے مراد لئے ہیں۔ پس اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ جبکہ فلمّا توفیتنی کے لفظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ دونوں شریک ہیں گویا یہ آیت دونوں کے حق میں وارد ہے تو اس آیت کے خواہ کوئی معنے کرو دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ سو اگر تم یہ کہو کہ اس جگہ توفی کے معنے زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے تو تمہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ اس زندہ اٹھائے جانے میں حضرت عیسیٰ کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں کیونکہ آیت میں دونوں کی مساوی شراکت ہے۔ لیکن یہ تو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پا گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کی قبر مبارک موجود ہے تو پھر اس سے تو بہرحال ماننا پڑا کہ حضرت عیسیٰ بھی وفات پا گئے ہیں۔ اور لطف تو یہ کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم زیادہ صفائی کے لئے اس جگہ حاشیہ میں اخویم حبّی فی اللّٰہ سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور انہیں کی حدود میں حضرت